آن لائن کاروبار کا افسانہ – حکمتِ عملی

مارکیٹ ریسرچ کروائیں۔
آن لائن مارکیٹ ریسرچ کر کے جانیں کہ آپ کے ٹارگٹ کسٹمرز کیا چاہتے ہیں، کیا ضرورتیں یا کمی ہے۔

مارکیٹ ریسرچ آپ کا اپنا آن لائن کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔ یہ گہرائی، دوسروں کے درمیان حیثیت، اور منتخب کاروبار کی منافع کا تعین کرتا ہے۔ کیونکہ آخری چیز جو آپ کرنا چاہتے ہیں وہ ایک پیشکش شروع کرنا ہے جو کوئی خریدنے کا خواہشمند نہیں ہے۔ نیز، مارکیٹ ریسرچ آپ کے پروڈکٹ کے آئیڈیا، قیمتوں اور طلب کو درست کرنے میں مدد کرتی ہے۔

یہاں ہے کہ آپ مارکیٹ ریسرچ کے ساتھ کیسے شروعات کر سکتے ہیں

تلاش کیے گئے الفاظ کو چیک کریں۔
اپنے پروڈکٹ/سروس کے الفاظ کی مختلف حالتوں کو دیکھیں اور ان کے لیے سرچ انجن کے نتائج کا تجزیہ کریں۔ پہلے صفحہ پر فی الحال کس قسم کے مواد کی درجہ بندی کی جا رہی ہے؟ تلاش کے نتائج کے اوپر اشتہار دینے کے لیے کون سے کاروبار پیسے ادا کر رہے ہیں؟

ایسا کرنے سے آپ کو اپنے مقابلے کا پہلے سے اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ، ابتدائی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی حکمت عملی کے لیے معلومات حاصل کریں، اس مواد کی بنیاد پر جو آپ کے ٹارگٹڈ کسٹمرز ترجیح دیتے ہیں۔

تحقیقی حریف۔
آپ اپنے اہم حریفوں کو بھی قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کے زمرے میں سب سے بڑے کاروباری منصوبے کون سے ہیں؟ وہ کتنے پیسے کما رہے ہیں؟ ان کی خوبیاں اور کمزوریاں کیا ہیں؟ دوسرے کھلاڑیوں پر خوردبین ڈال کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کو ان کے مقابلے میں کہاں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مطلوبہ الفاظ کو ٹریک کریں۔
تجزیہ کریں کہ آپ کے زمرے میں مختلف مصنوعات کی مانگ کس طرح بدل رہی ہے اور زمرہ سے متعلقہ مطلوبہ الفاظ کی نگرانی کرکے کون سا مواد بہترین درجہ رکھتا ہے۔

اس کے لیے اچھے “ٹولز” ہیں:

گوگل ٹرینڈز (مفت)
گوگل کی ورڈ پلانر (مفت)
احرف (ادائیگی)
سیمرش (ادائیگی)


اپنے ٹارگیٹڈ کسٹمرز کی وضاحت کریں۔
فروخت کے لیے درخواست کرنے اور پھر اپنے کاروبار کی پیمائش کرنے کے لیے، آپ کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ کے ہدف والے صارفین کون ہیں۔ ان کی ضروریات اور ترجیحات کے بارے میں جاننے کے لیے، ڈیموگرافکس اور سائیکوگرافکس ڈیٹا دونوں کی تحقیق کریں۔

ڈیمو گرافکس۔
آبادیاتی ڈیٹا میں بنیادی سماجی و اقتصادی خصوصیات شامل ہیں جیسے عمر، جنس، نسل، آمدنی، ملازمت کا عنوان وغیرہ۔

سائیکوگرافکس۔
سائیکوگرافک ڈیٹا میں مختلف نفسیاتی خصوصیات شامل ہیں جیسے اقدار، عقائد، دلچسپیاں، رائے وغیرہ۔

یکجا ہونے پر، یہ معلومات آپ کی مثالی خریدار کی ضروریات، ترجیحات اور خریداری کے محرکات کے بارے میں مکمل علم پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

آن لائن فروخت کرنے کے لیے پروڈکٹس تلاش کریں۔
اگر آپ کی مصنوعات غیر متاثر کن ہیں تو آپ کامیاب آن لائن کاروبار نہیں چلا سکتے۔ کیونکہ اس کے بعد آپ سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ پیجز پر جائیں گے… تمام غلط وجوہات کی بنا پر۔ اس طرح، اپنی مصنوعات کو جمع کرنے کی حکمت عملی پر غور کرنے کے لیے اضافی وقت گزاریں۔

اپنی مصنوعات خود بنائیں۔
اگر آپ ڈیجیٹل مصنوعات فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ آپشن نسبتاً آسان ہے۔ لیکن فزیکل پروڈکٹ مینوفیکچرنگ میں ڈیزائن، تشخیص، مواد کے انتخاب وغیرہ کے لحاظ سے بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ مالی اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن مینوفیکچرنگ آپ کو حریفوں کے معیار، مصنوعات کی حد اور برانڈ کے لحاظ سے ہمیشہ فائدہ دے گی۔

ایک ایسا صنعت کار تلاش کریں جو براہ راست گاہک کو فراہم کرے۔
آپ ایک ایسا صنعت کار تلاش کرسکتے ہیں جو آپ کو ان کی مصنوعات کو ڈراپ شپ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروباری مالکان کاروباری لاگت کو پورا کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم مینوفیکچررز (بنیادی طور پر ایشیا میں مقیم) کے ساتھ ڈراپ شپنگ ڈیلز پر بات چیت کرتے ہیں۔

تھوک فروش کے ساتھ کام کریں۔
یا آپ ایک تھوک فروش تلاش کر سکتے ہیں جو آپ کو اپنے آن لائن سٹور میں خریدنے اور کیوریٹ کرنے کے لیے مصنوعات کی ایک رینج فراہم کرے۔ اس کے علاوہ، آپ ایک تھوک فروش تلاش کر سکتے ہیں جو آپ کے لیے بھی اپنی مصنوعات تقسیم کرے (اگر آپ انہیں تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں)۔

اگلے مضمون میں جاری

Protected:

This content is password protected. To view it please enter your password below:

گدھ انتظار میں ہیں

اس رمضان میں ہونے والی سیاست اور اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات نے جہاں رمضان کی مقدس گھڑیوں کا ستیاناس کیا اس کے ساتھ ایک اور بات واضح ہوئی کہ حکومت ہو یا اپوزیشن کسی کا مقصود پاکستان کو کم از کم اسلامی مملکت بنانا تو نہیں۔ بہتان، الزامات، جھوٹ اور طعن و تشنیع ہی ہمارے ہر مذاکرے کا محور ہے۔ اقتدار اور طاقت کیلئے ہر حد تک کی جانے والی گندی سیاست اور اس میں خود کو مومن اور سامنے والے کو کافر ثابت کرنے کیلئے ہر چیز میں اسلام کی توہین کے الزام سے لے کر، سیاستدان کو لینے جانے کو حج سے بڑا فریضہ قرار دینے تک، لیڈران اور ان کے پیروکاروں نے اپنی اصل شناخت “مسلمان” کو تو کہیں پرے رکھ دیا ہے۔

اسلامی جماعتیں اپنے حق میں ہونے والی دلیلیوں کا پرچار کر رہی ہیں بے شک عمل اس کے سو فیصد برخلاف ہو اور جو جماعتیں دین کے لیبل کے ساتھ نہیں وہ بھی دین کا ایک جز “فلاحی ریاست” کا نعرہ لگاتی ہیں۔ اور جو بچ گیا وہ کرسی کی ہوس میں ہر غلط کو کہیں نہ کہیں پگھلا کر عوام کے “اسلام بٹن” کو دباتا ہے۔ خدا کی پناہ، پورے رمضان میں نہ اسلامی پارٹی، نہ ریاست مدینہ پارٹی اور نہ جمہوروں کے منہ سے ایک لفظ نکلا کہ رمضان برباد ہو رہے ہیں کم از کم اس گندی سیاست کو اس مبارک مہینے تک موقوف کیا جائے تاکہ کم از کم مجھ جیسے گناہ گار اس رحمت کی بارش میں اپنی معصیتوں کی طرف دھیان کر کے اللہ کی مغفرت کی بارش سے خود کو صاف کریں۔

کیا سب کو اتنا بنیادی دین بھی نہیں پتہ کے اللہ کی کھلی نافرمانیاں کر کے کونسی جمہوری روایات، کیسا مقدس آئین اور کیسی ریاست مدینہ کے دعوے ہو رہے ہیں۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ جھوٹی خبروں کا انبار لگا ہے جسے سن کر دونوں طرف کے لوگ گالیاں، الزامات اور بد تہذیبی کی حدیں پار کر رہے ہیں۔

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ 70 سالوں سے پاکستان “نازک دور” بمع “انتہائی مشکل معاشی حالات” میں ہے۔۔ جمہوریت ہر وقت خطرے میں ہے اور “سازشیں” ہو رہی ہیں۔۔ اس کے باوجود اربوں کی ریل پیل، محلات، بڑی بڑی دعوتیں اور جلسے۔۔ اور دوسری طرف ہمارے شہر میں دو دو کروڑ کی گاڑیاں گدھا گاڑیوں کی طرح سڑکوں پر ہیں۔۔ مہنگے برانڈز پر قطاریں اور فائیو سٹار کھابوں پر انتظار میں لوگ کھڑے ہیں۔ فرعونوں کی پوری کھیپ ہے جو کسی جگہ کسی کو بھی مارتی اور بے عزت کرتی ہے۔۔ آہنی ہاتھ ابھی تک تیار نہیں ہوا اور انصاف کے مراکز کسی لٹی ہوئی دوشیزہ کی طرح بیچ چوراہے پر کھڑی سب سے گالیاں سن رہے ہیں۔ عوام اپنے مخالف کے خون کے پیاسے ہیں اور بس موقع ملنے کی دیر ہے۔

اب جبکہ ہر چہرے سے نقاب الٹ چکے، سب واضح ہوگیا تو ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے تو اوپر نیچے والے سب سے پہلے تو رہنمائی کیلئے اس قران و حدیث کی طرف رخ کریں جس میں حکومت، ریاست، فلاح اور کامیابی کا پورا ماڈل اور اس کے نفاذ کی “اسٹیپ بائی اسٹیپ” گائیڈ موجود ہے۔ ورنہ بارود بچھا ہوا ہے بس کسی اپنے یا پرائے کو ایک تیلی دکھانے کی دیر ہے اور خاکم بدہن، خدا نخواستہ سارا آئین، ساری جمہوریت، ساری خلائی مخلوقیں، سارے سپریم اور سارے ایوان قبرستان بن جائیں گے اور وہ گدھ جو ہمارے گرنے کے انتظار میں ہیں آکر نوچیں گے۔

فریب کا طوفان

“جنگیں تعداد سے نہیں استعداد سے جیتی جاتی ہیں”

دشمن نے سوچ سمجھ کر اور ہمارے قومی مزاج کو سمجھ کر لکیر کھینچی ہے۔ اپنے لئے “ون ون” اسٹریٹجی بنائی ہے۔ انہیں پتہ تھا کہ پاکستان کی عوام عمران کے ساتھ باہر نکل آئے گی۔ انہیں پتہ تھا کہ جن کو وہ لارہے ہیں وہ بدنام زمانہ اور ثابت شدہ لٹیرے ہیں۔ ان کو اپنی گردن بچانی ہوگی اور وہ گھبراہٹ میں سب کچھ کریں گے۔ جو نظر آرہا ہو وہ سازش نہیں ہوتی اصل سازش وہ ہوتی ہے جو نظر نہ آرہی ہو۔ 4 سے 5 لوگوں سے ڈیل کی گئی جو کام ہو جانے کے بعد منظر نامے سے ہٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور چوہے کو پنیر دکھا کر آگے کیا تاکہ ممکنہ ردعمل کی صورت میں سیاسی مخالفین کا خاتمہ ہو جائے۔ دو بڑی سیاسی طاقتوں کو الگ الگ سبز باغ دکھائے گئے۔۔ دونوں میں سے کوئی بھی بچے گا وہ بائی ڈیفالٹ غلام ہوگا اور بلیک میل بھی ہوتا رہے گا۔

فوج کو “سجی” دکھا کے “کھبی” ماری گئی۔ ایک طاقت کو فوج سے انتقام لینا تھا اور دوسری کو پہلی طاقت سے۔ “دشمن کا دشمن دوست” والی پالیسی سے آگے “دشمن کا دشمن ہمارا دشمن بھی” والی لائن پر کام چل رہا ہے۔ عمران کے آنے کے بعد فوج سے عوامی لگاو میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ کوئی ایک لفظ فوج کے خلاف نکالتا تھا تو عوام اسے سر سے پاوں تک ننگا کر دیتی تھی۔ تو سب سے پہلے یہاں رخنہ ڈالنا تھا۔ اور اس رخنے کیلئے عوام کے دلوں میں یہ بات بٹھانی تھی کہ تمہارے پیارے لیڈر کو فوج نے خود بھگا دیا ہے۔ اس چیز میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے “کرائے کی صحافت” کو استعمال کیا گیا۔۔ عمران کے مزاج کو دنیا جانتی ہے۔۔ بہت آسان ہے یہ بیانیہ پھیلانا کہ عمران نے فوج سے ضد کی۔

دوسری طرف پہلے مہرے کو ایکٹیویٹ کیا گیا اور ڈالروں کی کھیپ دے کر خریداری شروع کرنے کا کہا گیا کیونکہ اس پہلے مہرے کو پیسوں سے لگاو ہے حکومت سے نہیں۔ آفرز شروع ہوئیں اور جان بوجھ کر سفارت کار کو بلا کر دھمکی دی گئی تاکہ ریکارڈ کا حصہ بنے۔ اب یا تو عمران اس راز کو پبلک تک لاتا تو عمران کے علاوہ سب کو عوامی مزاحمت بھگتنی تھی اور اگر نہ لاتا تو اپنی من پسند حکومت بنانے کے بعد اسی بندوق سے اس حکومت کو عوام کے ہاتھوں مروا دیا جاتا۔ دونوں آپشنز فیور میں تھے۔

دوسرے مہرے کو انتقام میں مدد اور حکومت کا چورن بیچا گیا جو اس نے ذلالت کے تین سال دیکھ کر فورا قبول کیا۔ دونوں مہرے سمجھ رہے ہیں کہ وہ “مین پلیئر” ہیں۔ دوسرا مہرے کو کرپشن، سیاست اور بقا کا مسئلہ تھا تو یہ اتحاد فطری ہو گیا۔ دین سے بیزار کرنے کیلئے ایک ترسے ہوئے سیاستدان کو چاٹ مصالحے کی طرح اس دیگ پر چھڑکا گیا تاکہ لوگ اس کے بعد مخلص دینداروں کی بات کو بھی نہ مانیں۔ اس کا ایک چھوٹا سا تجربہ کر کے چیک بھی کیا گیا۔ اسٹیج تیار ہوا۔ ہر “موو” صحیح طریقے سے چلی۔ مگر عوام فوج سے دور نہیں ہو رہی تھی۔۔ انہیں گمان تھا کہ خان فوج کے خلاف پھٹ پڑے گا۔۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔۔ وہ شاید خان کو صحیح سے سٹڈی نہیں کر پائے یا خان ان کو اچھی طرح سٹڈی کر چکا تھا۔

پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ملک بھی ہمارا ہے، فوج بھی ہماری ہے اور مخالف پارٹی کے سپورٹر بھی پاکستانی ہیں۔۔ ہمیں مسئلہ ان چوروں غداروں کے ٹولے سے ہے۔۔ ہمیں مسئلہ غلامی سے ہے۔

بہت احتیاط کریں۔ فورا رد عمل نہ کریں۔ غور کریں۔۔ دشمن نے بارودی سرنگیں لگا دی ہیں۔۔ اس بابرکت مہینے میں ملک کیلئے خوب دعا کریں۔۔ خصوصا ہر بھٹکے ہوئے کیلئے کہ اللہ ہمیں حق دکھا دے اور اس کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق دے۔۔ اور اللہ ہمیں باطل دکھا دے اور اس سے دور رہنے کی توفیق دے

پاکستان زندہ باد

پائڈ پائیپر

بچپن میں پائڈ پائیپر کی کہانیاں سنی تھیں۔ تخیلاتی سی بات لگتی تھی کہ کیسے ایک بانسری بجانے والاایک دھن بجاتا ہے اور پہلے چوہے پھر انسان اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔

آج سوشل میڈیا پر بعینہ وہی چیز ایک بدبودار حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہے۔ فیس بک، یوٹیوب اور ٹوئیٹر پر “ٹرینڈ” نامی پائڈ پائیپر بس ایک دھن تخلیق کرتا ہے اور ہزاروں لاکھوں لوگ پیچھے چل پڑتے ہیں۔ بجائے حقیقت ڈھونڈنے کے، بس کچھ بھی پوسٹ کر ڈالتے ہیں۔ اور ایک دن “انصاف” دلانے والا ٹرینڈ اگلے ہی دن “شیم شیم” ہو جاتا ہے۔ اور ہم جیسے لاکھوں لوگ ان کمپنیوں کے بے تحاشا پیسے کمانے کی مفت اور بے قیمت وجہ بنتے ہیں۔

ایک ای-کامرس کمپنی کو کنسلٹ کرتے ہوئے میری کمپنی کو ایک ریسرچ کرنی پڑی جس کے اعداد و شمار سے میں خود بھی حیران رہ گیا کہ انٹرنیٹ پر صرف کئے جانے والے وقت میں 70 فیصد وقت سوشل میڈیا پر جبکہ سوشل میڈیا پر صرف کئے جانے والے وقت کا 80 فیصد وقت ویڈیوز میں گزارا جاتا ہے۔ اور اس کو پیسے کمانے کا ذریعہ اور ہنر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ہر “چول” کو کونٹینٹ کہا جانے لگا ہے۔

مجال ہے کہ کوئی ذرا سا بھی سوچے کہ ان بیوقوفیوں کو دیکھتا کون ہے اور اس پر بنانے والے کو پیسے کون دے رہا ہے؟ اور کیوں؟ ہماری نظر مکمل طور پر ایک “عظیم مقصد” کو حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کر گزرنے والے فرعون صفت “کاروباریوں” کی گرفت میں ہے۔ پہلے وقتوں میں منفی اور اپنے مفاد کے خلاف ذہن سازی میں ایک نسل کام میں آجاتی تھی اور اب سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے میں صرف ایک “وائرل” کی دیر اور “ٹاپ ٹرینڈ” کا فاصلہ ہے۔ حالانکہ انٹرنیٹ پر ہر ایک صارف کے اوسطاََ 3 اکاونٹ ہیں۔ اب ایک بٹن کی دوری پر آپ کی بات سیکنڈوں کا سفر طے کر کے پوری دنیا میں پھیل جائے گی اور اسکے “لائکس” اور “فالوورز” دیکھ کر ہم اس کے صادق اور امین ہونے کا فیصلہ بھی کر ڈالیں گے۔

تو ذہنی طور پر تقریباََ آدھی دنیا اس قدر مفلوج اور معقول نقطہ نظر سے عاری ہو چکی ہے اور “کرپٹو کرنسی” کا جن قطرہ قطرہ مادی دولت کو اپنے اندر سمیٹ رہا ہے۔ سونے سے سکے، سکوں سے نوٹ، نوٹ سے پلاسٹک، پلاسٹک سے ڈیجیٹل اور اب ڈیجیٹل سے کرپٹو۔ اور کرپٹو چھینی تو جاسکتی ہے واپس نہیں لی جا سکتی (اس کی تفصیل انشاءاللہ کسی اور آرٹیکل میں لکھوں گا)۔ اب غریب طبقے کو سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ کروڑ پتی بننے کے مواقع ہیں اور کروڑ پتی لوگوں کو راتوں رات دولت دگنی کرنے کا آئیڈیا دیا جا رہا ہے۔

کروناکے سلسلے میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ کس طرح خوف اور بھوک مسلط کرنے کا منصوبہ آگے بڑھے گا اور اس مقصد کے حصول کیلئے ممکنہ رسائی کے راستے مسدود کرنا بہت ضروری ہے۔ سفری پابندیوں سے لے کر تیل کی قیمتیں بڑھانے تک، بحری اور ہوائی ترسیل کو مہنگا کرنے سے “ورک فرام ہوم” کی کیمپئین تک اور چھوٹے ملکوں کو ویکسین اور ویریئنٹ سے ڈرانے سے لے کرسب چھوٹے کاروباریوں کو بڑے زمینی خداوں کے سامنے جھکانے تک ہر کھیل کا ایک ہی مقصد ہے۔ وقت کا فرعون بننے کے راستے میں آنے والے ہر چھوٹے بڑے خطرے کو یا تو مکمل ختم کرنا یا اتنا مفلوج کر دینا کہ گھٹنوں پر ہی رہے۔ دنیا گھٹنوں پر آرہی ہے۔

بس اب لگام “ٹرینڈز” ” وائرل” ” اور “فالورز” کے ہاتھوں میں ہے۔ پائیڈ پائیپر کی دھن بجنا شروع ہوگئی ہے۔ اگر اسے اسکے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ کرنے دئیے گئے تو وہ اگلی دھن ہمارے بچوں کیلئے بجائے گا اور سب کو اپنے پیچھے چلا کر سمندر میں غرق کر دے گا۔ آغاز تو کر چکا ہے اب ہم پر ہے کہ ہم اگلی نسل کے کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر اسکی آواز سے باز رکھ پاتے ہیں یا خدا نخواستہ ان کے ڈوبنے کا تماشہ دیکھتے ہیں۔

اللّٰہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

صرف چند منٹ۔۔

جو مرد یا عورت صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے وہ تین اہم وجوہات کی بنا پر دنیا کے اس شور مچاتے سمندر کی لہروں میں خود کو آمادہ کرتا ہے۔ بقا، ذمہ داریاں یا اپنے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کا مستقبل۔

ہمارے معاشرے میں ایک متوسط ​​طبقے کا آدمی نچلے طبقے کے آدمی سے زیادہ سخت جنگ لڑ رہا ہے۔
اسے اپنا ڈھانچہ اسی کلاس میں رکھنا ہوگا جس میں وہ بیٹھا ہے۔ اپنے آس پاس کے لوگوں کی خالی جیبوں میں جھانکنے یا چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے بہت زیادہ محنت کا اندازہ لگانے کا خوف، جب وہ اپنے باس یا اپنے چھوٹے کاروباری گاہکوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، تو اسے شدید غصہ آتا ہے۔ سخت اور بعض اوقات بدتمیز لگتا ہے۔

اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور اس کی ایمانداری کے مقابلے میں دوسروں کی بے ایمانی سے ہونے والے نقصان کے بارے میں بات کرنا، ان الفاظ کو سننے کے لیے جو اس کے کلام میں موجود نہیں ہیں، بہت کم محنت کرنا پڑتی ہے۔

اگر ہم میں سے کوئی ایسا شخص پائے تو اس کے ساتھ چائے کا کپ پینا اور صرف اس کی باتیں سننا بڑی نیکی ہے۔ اس آدھے گھنٹے کے سیشن سے ایک (ممکنہ) باغی، دہشت گرد، مجرم اور سب کو آگ لگانے والی روح رفتہ رفتہ غائب ہو جائے گی اور دوسرا یہ کہ وہ یہ سارا زہر سڑک پر لے جائے اور نہایت شائستہ اپنے گھر والوں تک پہنچ جائے۔

اب جب کہ ہمارا معاشرہ ظلم کی انتہا کو پہنچ رہا ہے، ہر دو تین ماہ بعد آپ کو رابطے میں رہنے کے لیے فیس بک یا انسٹاگرام پر اپنی دولت اور خوش قسمتی کا اضافہ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ اور آپ کے فون پر ہونے والی گفتگو یا آپ جن لوگوں سے ملتے ہیں ان کی قیمت کم از کم لاکھوں ہونی چاہیے۔ اس دور میں کسی ملاقاتی کو ہٹانے کے لیے جو ‘میں آپ کو کال کروں گا’ اور ‘دوبارہ ملیں گے’ جیسے فضول الفاظ استعمال کرتا ہے، یہ محسوس کرتے ہوئے کہ سننے والے کو سمجھ نہیں آئے گی، ان کو بہت زیادہ عزت کی ضرورت ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں ایسا شخص دولت کی اچانک آمد کے بعد بہت سخت اور ظالم ہو جاتا ہے اور پھر جب کوئی اس پر ہنستا ہے تو وہ اپنا طنز اور اپنے ماضی کا غصہ دونوں پیش کرتا ہے۔

ان سطور کا واحد مقصد اپنے دوستوں اور جاننے والوں کا خیال رکھنا ہے جو کسی بھی وجہ سے دولت، حیثیت اور رشتوں کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ ان کی انگلی پکڑ کر آگے بڑھیں۔ انہیں مواقع دیں۔ یقین جانیے یہ میرے اور آپ جیسے محتاجوں کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا امتحان رکھا ہے کہ وہ اس کو دی ہوئی نعمت میں شریک کرتا ہے یا اسے اپنا کمال سمجھ کر فرعون بن جاتا ہے۔

آئیے ان ساتھیوں کے لیے روزانہ ایک وقت نکالیں اور ان کے ساتھ آرام دہ انداز میں بیٹھ کر باکس سے باہر چیزوں اور خیالات پر گفتگو کریں۔ یہ معاشرے اور ہمارے آس پاس کے لوگوں میں بہت نتیجہ خیز تبدیلی لائے گا۔

تھوڑے لوگ

کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ ایک بزرگ دعا مانگا کرتے تھے کہ اللّٰہ مجھے قلیل لوگوں میں رکھنا، وہ جو تھوڑے ہوں اور اس کی دلیل میں انکا کہنا تھا کہ اللّٰہ نے قران میں فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ کامیاب لوگ تھوڑے ہیں۔۔

اس قیامتِ صغریٰ میں، جو دنیا پر ٹوٹی ہے، ایک بے ہنگم ریوڑ ہے جو ہر قسم کے میڈیا پر آنے والی اطلاعات پر کسی نہ کسی طرف بھاگا جا رہا ہے۔۔ لوگوں کے یقین کا محور بدل رہا ہے۔ انسان انسان سے ڈر رہا ہے۔ ہر روز ایک نئی بات ایک مخصوص گروہ سے نشر ہوتی ہے جس پر یہ ڈرا سہما انسان آنکھیں بند کر کے یقین کر رہا ہے اور خود کو اسی طرف گھسیٹ رہا ہے۔ اور اس گروہ کی طرف سے گویا روز بروز ردِ عمل دیکھ کر نئے نئے زاوئیے تراش رہا ہے۔ اور انتہائی ڈر کا مقام ہے کہ مسلمان بھی اس بھیڑ میں اپنےمرکز سے دن بدِن دور ہو رہا ہے۔۔ وہ مسلمان جو اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کے فصیلِ شہر پر جمع ہونے کی خبر سن کر بھی اللّٰہ اکبر کا نعرہ لگا کر تلواریں سونت لیا کرتا تھا آج وہ بھی اس طرح کر رہا ہے جیسے کرونا سے ہی موت آئے گی اور دجالی ہدایات پر عمل ہی بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

دنیا بھر کے مفروضوں سمیت پچھلی صدی تک کی خاک چھان لی گئی اور حیران کن خبروں سے لے کر جدید و قدیم علاج کے طریقے لاکھوں کی تعداد میں شئیر اور فارورڈ کئے گئے۔۔ اس پر ستم یہ کہ اشعار، نظمیں، تقریریں اور تصاویر۔۔ حرمین کے غم میں گھلے جانے سے لے کر ضرورت مند طبقے کی امداد کی تصاویر اور اشتہارات اور ایک دوسرے سے زیادہ پوائنٹس اور لائکس تک سب کچھ ہو گیا۔۔ یو ٹیوب پر دھڑا دھڑ ویڈیوز اور اس کے ٹائٹل کو توجہ کا مرکز اس لئے بنانا کہ لوگ دیکھیں اور گوگل سے رقم آئے۔۔ اور گھروں میں قید کئے جانے سے لے کر وائرس کی تباہ کاری پر لطیفے۔۔۔ سب ہو گیا۔۔ سب کچھ۔ مساجد میں جماعت کی نماز کی بندش پر جذبہِ ایمانی سے سرشار مومنوں کے گروہ نے مسلمان پولیس کی مار مار کر درگت بنا دی۔۔ جمعہ کی نماز کو مسجد ہی میں پڑھنے کو اسلام اور کفر کا مسئلہ بنا کر اپنے اپنے مسالک اور مکتبہ فکر کی خوب مارکیٹنگ کی۔۔ بس نہیں ہوا تو قران نہیں کھلا۔۔یا پھر چند آیات کی تلاوت کر کے خوبصورت سے غلاف میں عقیدت سے چوم کر رکھ دیا گیا۔۔۔
فرض کریں اگر ہم میں سے کسی کو اٹلی یا اسپین سے ایک گمنام کال آتی ہے اور وہ پوچھتا ہے کہ تمہارا قران اس قسم کے حالات میں کیا کرنے کا حکم دیتا ہے اور کونسے پارے میں؟ کونسی سورت میں اور کونسی آیت میں۔۔ تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ہم اس فون کال پر کچھ بتانے کے قابل ہیں؟؟ پھر وہی مولوی یاد آئے گا جس کی آج ہم حکومت کی ہدایت ماننے یہ نہ ماننے دونوں پر تذلیل کر رہے ہیں۔۔ کیا ہم وہی ہیں جو دعوی کرتے ہیں کہ قران مکمل ضابطہ حیات ہے؟.. اور اگر کافر پوچھتا ہے کہ تو نے اپنی زندگی پر کتنا قران نافذ کیا ہے تو ہم اسے جوابدے سکتےہیں۔۔کیاآج مسلمان کافرکی ویکسین، کافر کےماسک، کافر کے وینٹیلیٹر اورکافر کی ٹیسٹنگ کٹ کی طرف نہیں دیکھ رہا۔۔اس کے ریزلٹ پر ایمان نہیں لا بیٹھا؟.

کیا ہم اپنے کسی غیر مسلم دوست کے چند سوالات کے جوابات دینے کے قابل ہیں؟ مثلاً
۔۔ کیا بغیر تحقحق کے بات آگے “فارورڈ” کرنے والا جھوٹا ہوتا ہے؟ تمہارے پیغمبر صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا۔۔
۔۔ تم کہتے ہو کہ تمہارا اللّٰہ ہر چیز پر قادر ہے اور تم اس کی عبادت کیلئے مسجد جاتے ہو تو آج تم نے مسجدیں کیوں بند کی ہیں؟
۔۔ تم کہتے ہو کہ ہمارے قران میں شفا ہے تو آج ہم کافروں کی ویکسین کا انتظار اور دعائیں کیوں کر رہے ہو؟
۔۔ تم کہتے ہو کہ ہم کافروں پر اللّٰہ کا عذاب آیا ہے تو کیا تم لوگوں پر بھی وہی عذاب آیا ہے؟
۔۔ تم کہتے ہو کہ موت کے وقت بھی تمہارے صحابہ نے پانی کیلئے اپنے ساتھی کو فوقیت دی تھی تو آج تم لوگ اپنے ہی لوگوں سے دھوکا، فراڈ اور ان کا مال ہڑپ کیوں کر رہے ہو؟

کیا ہم ان کے جوابات دینے کے قابل ہیں؟ کیا ہم آج اور ابھی سے یہ عہد نہیں کر سکتے کہ کہ ہم
۔۔ نماز کو عادت سے عبادت بنائیں گے
۔۔ مسلمان کی مدد کریں گے تو ہمارے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہیں چلے گا
۔۔ قران کی کم از کم ان سورتوں کے ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کی کوشش کریں گے جو نماز میں پڑھتے ہیں تاکہ رب سے بات کرنے کا لطف آئے۔
۔۔ بغیر تحقیق کے کچھ آگے نہیں بڑھائیں گے۔
۔۔ حالات جو بھی ہوں اللّٰہ کے حکم کو مقدم رکھیں گے
۔۔ روزمرہ کی صبح سے رات تک کی سنتوں کو زندگی میں لائیں گے۔۔

جیسے عمل اوپر بھیجیں گے، اوپر سے فیصلے بھی ویسے آئیں گے۔۔ فیصلہ ہمیں یہ کرنا ہے کہ آج سے ہم یہ دیکھیں گے ہم اوپر کیا بھیج رہے ہیں بجائے یہ دیکھنے کے کہ دنیا کیا کر رہی ہے۔۔

اللّٰہ مجھے بھی ویسا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے جیسا میرے آقا صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم کو پسند ہے۔ آمین۔۔

کرونا کی عجیب حرکتیں

کرونا کیا آیا بیک وقت ڈاکٹر، نجومی، تجزیہ نگار، عامل، ٹوٹکے والے، حکیم، طبیب اور دیگر ہنرمید افراد کا طوفان بھی ساتھ آگیا۔

مگر چونکہ میرے ۰گاربیج۰ زدہ ذہن میں خرافات کا ہجوم رہتا ہے تو بہت سارے ۰کیوں۰ کی آمد رہتی ہے جن میں سے چند پیش خدمت ہیں۔

۔ چین کی عین سالانہ چھٹیوں میں وائرس کا نکلنا۔

 (۔ اور پھر دنیا بھر میں اسکی اندھا دھند تشہیر (واضح رہے کہ چین کا میڈیا بہت کنٹرولڈ ہے

۔ سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر۔

امریکہ کی کمپنی تھری ایم کا ماسک کی پروڈکشن کروڑون میں بڑھا دینا اور دام بھی چار گنا کر دینا۔

۔ امریکہ کا دنیا کو منع کرنا مگر اپنے لوگوں کو خصوصی طیارے سے واپس لانا۔

۔ انسان سے انسان کو لگنے والے وائرس کا چائنا کے بعد اڑتے ہوئے ایران اور اٹلی پر حملہ آور ہونا۔

۔ جہاں سے وائرس چلا وہاں سے حفاظتی ٹوٹکے آنے کے بجائے امریکی ڈاکٹروں اور اخبارات سے آنا

۔ دنیا کو ڈرا ڈرا کر لاک ڈاون کروانا (چند ملکوں کو چھوڑ کر)

۔ اچانک فنڈ بھی جاری ہونا (یاد رہے شام، عراق اور فلسطین میں اس سے کئی گنا زیادہ اموات ہوئیں مگر فنڈ جاری نہیں ہوئے)

۔ عین اسی بیچ سعودی حکومت میں بغاوت اور حرمین کا لاک ڈاون۔ ( یاد رہے کہ دنیا کی واحد جگہ جہاں سے کئے جانے والے اعلان پر مسلمانوں کو عمل کروایا جاسکتا ہے)

۔ 14 دنوں کا مقررہ وقت گھروں میں رہنے کیلئے (حالانکہ وائرس لگنے اور پھیلنے کی تاریخیں الگ الگ ہیں

۔ سفری پابندیاں (وائرس زدہ ملکوں کے حساب سی نہیں بلکہ جغرافیائی اعتبار سے)

۔ چین کی مبہم دھمکی کے بعد ٹرمپ کا معذرت خواہانہ صفائی اور پھر وائرس کا نام “چائینیز وائرس” رکھنا اور اسکی تشہیر

۔ رات کو جہازوں سے اسپرے کی افواہ کا منظم طریقے سے دنیا میں پھیلنا ( جہاز کم سے کم اڑان بھی 10000 فٹ کر سکتا ہے جس سے دوائی کا زمین پر پہنچنا 5 فی صد ہے)

۔ امریکہ میں وائرس کا چین کی دھمکی کے بعد آنا

۔ دنیا کے پل پل کے اعداد و شمار میں (تادم تحریر) اسرائیل کا نہ ہونا اور نہ ہی اقدامات کرنا۔

۔ دنیا کے کچھ بڑے بڑے ناموں کو وائرس لگنا جن کی گزشتہ سفری ہسٹری میں وائرس شدا ممالک دور دور تک نہ ہوں اور وی وی آئی پی حفظان صحت کرنے والے۔

۔ موم بتی این جی اوز خاموش۔

۔ اپنے اقدامات کو ضرورت سے زیادہ مشہور کرنا۔

۔ گوگل کی سیٹیلائٹ امیجری اپڈیٹ کے وقت میں دنیا میں کیا جانے والا لاک ڈاون اور فیکٹریز کی بندش سے واضح تصاویر کا امکان اور لاک ڈاون سے ٹریفک بھی نہ ہونا۔

۔ دنیا میں سب سے زیادو رپورٹ ہونے والی اموات ٹریفک حادثات ہیں مگر وائرس کا میٹر ہر منٹ پر اپڈیٹ ہونا۔

۔ اربوں ڈالر کی الکحل کی تجارت۔۔ سینیٹائزر کی شکل میں۔

۔ چند ڈاکٹروں کی معلومات اور علاج سے متعلق خبروں کی ایک گھنٹے کے اندر اندر تردید

۔ فیس بک اور گوگل کے ایڈورٹائزنگ اکاونٹ پر میسج کہ ” آپ کی فیڈ کورونا کی وجہ سے لیٹ ہو رہی ہے”

گھر سے کام کرنے پر زور اور بھر پور تشہیر۔۔ (یاد رہے کی پیڈ کونٹینٹ بھی)

باقی انشاءاللّہ اگلی پوسٹ میں

مسلمانوں، ہم تمہارا گریبان ضرور پکڑیں گے


دنیا سمٹ گئی اور کمپیوٹر کھولتے ہی آپکو سچی جھوٹی، تعریفی اور تنقیدی خبریں نظر آنا شروع ہوگئیں. اس پوسٹ کو لکھنے کی وجہ برما اور صرف برما ہے. 

ایک  مہینہ ہوگیا ہے مگر کوئی اس خبر کی تائید یا تردید کرنے کو تیار  نہیں ہے کے آیا ذبح کئے ہوے بچے جلی ہوئی لاشیں اور کھال اترے ہوے جسموں کی تصاویر سچی ہیں یا جھوٹی. بظاہر یہ مسلمانوں پر کفّار کا تشدّد اور ظلم کی عظیم مثال  ہے مگر اس سے ہم سب ننگے ہوگئے. الیکشن کمیشن، دھاندلی، شیر، بلا ، تیر اور پتنگ اور ان سب میں جو زیادہ منسلک ہےوہ ترازو ہے. ہمیشہ کی طرح ہماری قوم نے  جلوس نکالے اور اخباروں اور سوشل میڈیا میں خوبصورت پوز والی تصاویر اور ان سب سے بڑھ کر یہ کے ہماری ایمانی غیرت کا معیار کسی پوسٹ یا تصویر کےشیئر  کرنے یا نہ کرنے پر ہے.

یہ جملے مثال کے طور پر “اگر ایمان ہے تو شیئر کریں”  “شیئر کر کے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں”وغیرہ وغیرہ. آپ روز دیکھتے ہونگے. بھارت کے بیان پر شور شرابا کرتے ہیں اور کرنا چاہیے مگر وو لوگ جن کے گلے صرف اس لیےکاٹے  ہیں کہ وہ لا الہٰ الاللہ کہنے والے ہیں، ان کا کیا؟ اور ہم بڑے  فخر سے غوری، ٹیپو، بابر اور  فاتحین کا  تذکرہ کرتے ہیں جیسے ہم انکی فوج میں شامل تھے. آج بطور مسلمان شدّت سے اپنی بیچارگی اور لاچاری کا احساس ہو رہا ہے کہ کل یہی تلواریں خدانخواستہ ہمارے سروں پر چلنے لگیں گی تو بھی ہم فیس بک اور ٹویٹر جہاد کریں گے اور زیادہ سے زیادہ شیئر کر کے ایمانی ذمےداری سے دستبردار ہونگے؟

خدا کے لیے، اگر جس طرح سے آواز اٹھانی چاہیے اس طرح نہیں اٹھا سکتے تو کم از کم ان مظلوموں کی لاشوں اور انکے برباد خاندانوں کا تماشا تو نہ بنائیں. بلے، شیر، ترازو، تیر، رکشا، اور پتنگ والے اپنے سیاسی کارکن کے زخمی ہونے پر پورا شہر سر پر اٹھا لیتے ہیں تو یہ تو مسلمان ہیں…. مجبور، مظلوم اور بے کس مسلمان… ان کی آسمان کی طرف روتی  نگاہوں سے دیکھتی ہی تصویریں، اپنے چھوٹے  بچوں کے کٹے ہوے گلے والی لاشوں کو گود میں لیے ہے تصویریں، ایک لائن میں رکھی  جلی ہوئی  لاشوں کی تصویریں، کیا ہمارے جسم پر لگے ہے ایک بھی رویں کو حرکت نہیں دیتیں…. 

حق اور سچ کے ٹیلی ویژن پر  کنڈیشن کمروں میں گرما گرم چاۓ کا کپ ہاتھ میں لے کر شوشے چھوڑتے ہوے اینکرز،  کیمرے کے سامنے جھوٹا اور بناوٹی جذباتی انداز اختیار کرنے والے تجزیہ نگار (میں جھوٹا اور بناوٹی ہی کہوں گا) کیونکے اپکا ایک ایک لفظ لاکھوں لوگ سنتے ہیں… اور جو بکتا بھی ہے… تو کیا ایک جملہ کسی بھی پروگرام کے دوران  “برما” کے لیے نہیں نکلتا..

ان سطور تک  کافی خون ٹپکا چکا… یا الله مجھے منافق ہونے سے بچا.. 

کشاد در دل سمجھتے ہیں جس کو، ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
دل مرد مومن میں پھر زندہ کر دے، وو بجلی کہ تھی نعرہ لا تذر میں 
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے، نگاہ مسلمان کو تلوار کر دے.

شاید ہماری قوم میں تو کوئی ایسا نہیں.. مگر دنیا میں کہیں تو کوئی صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد ضرور ہوگا.

“او سیاست دانو” “او میڈیا والو” “او مقتدر حلقو”

پچھلے چند ہفتوں سے کمنٹس اور ریمارکس کا طوفان برپا ہے. مجھ سمیت ہر کوئی حسب توفیق اپنا اپنا حصّہ ملا رہا ہے. ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر ہے. الزامات کے جواب میں الزامات اور ایک گالی کے جواب میں گالیوں کا بھنڈار. ایک بات جو زیادہ تکلیف دہ ہے وہ یہ کہ سنی سنائی کا بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دینا اور اس “کار خیر” میں سوشل میڈیا نے مفت کی تفریح فراہم کر دی ہے. ایک مفت کا اکاؤنٹ بناؤ اور الٹ دو جتنی گندگی الٹنی ہے. 

صد افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ عوام تو عوام ، لیڈران نے بھی حد کر دی ہے.ایک عجیب اور واہیات حرکات کا ایک کے بعد ایک برپا ہونا جہاں عوام کو زہر میں ڈبو رہا ہے وہاں “گرین پاسپورٹ ” کی رہی سہی عزت بھی  مٹی میں مل رہی ہے . مجھ جیسے کوڑھ دماغ لوگ بھی اس کا نتیجہ  نکال رہے ہیں کہ عوامی موضوع پر کوئی بات کرنے کے لیے تیّار نہیں ہے. اور پھر ٹی وی کے تجزیات خدا کی پناہ. بال کی کھال  اور پھر اس کھال سے پھر بال ڈھونڈنا. بہت اچھی روش ہے کے واقعات اور بیانات کو ہر زاویے سے پرکھا جاے تاکہ سچ اور جھوٹ کا اندازہ لگایا جا سکے. مگر مجھ جیسے ناکارہ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ہوتی تو ذاتی راے یا اندازہ ہے، مگر یہ جہاں ہمیں سوچنے کا نیا زاویہ دیتا ہے وہا ان کے لیے بھی نیا “آئیڈیا” ہوتا ہے جو پردے کے پیچھے رہ کر ہمارے ملک کا تماشا دیکھتے یا بناتے ہیں.

اگر ایک پیراے میں حالات کو بینڈ کیا جاے تو بات بہت سادہ ہے.مگر اس سادہ سی بات نے جہاں بہت سے لوگوں کے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے وہاں سب نے اپنی ذات کو ملکی مفاد سے مقدّم کر دیا ہے. اور سچی بات ہے کہ مجھے ذاتی طور پر ایسا محسوس ہو رہا ہے چیزوں کو پیچیدہ در پیچیدہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے. مخالف سے ثبوت مانگنے والا خود ثبوت دینے کے لیے تیار نہیں ہے. کسی کو ان سب کے پیچھے فوج نظر آرہی ہے تو کسی کو بیرونی طاقتیں.کوئی اس کو آنا پرستی کیہ رہا ہے تو کوئی اقتدار کی ہوس. اور اس پر ستم یہ کہ ہر آدمی “بہت بڑے راز ” سے پردہ اٹھانے کی دھمکی دے رہا ہے تاکہ اپنا “چورن” بھی بیچ سکے .

حل بہت آسان ہے اگر کچھ ایسے لوگ خود سے آگے آئیں جن پر دونوں فریقین کو اعتماد ہو. بس صرف ایک سوال ہے کے اتنے سارے ان،انکشافات کے بعد پورے پاکستان میں ایسے دس پندرہ لوگ دستیاب ہیں جو بااختیار بھی ہوں اور جن کا دامن صاف بھی ہو. “او سیاست دانو”  “او میڈیا والو”  “او مقتدر حلقو” خدا کے لیے ایسے دس پندرہ لوگ ڈھونڈ دو جن کے درمیان میں آنے اور اعتماد حاصل کرنے کے ایک ہفتے بعد ان کے سکینڈل کے ٹکر بھی نہ چلنا شروع نہ ہو جایں اور ان میں سے بھر نکل کر کوئی پریس کانفرنس کی دھمکیاں نہ دے. خدا کے لیے ایسے صرف دس پندرہ لوگ پورے پاکستان میں سے ڈھونڈ لو تاکہ میں اپنے بچوں کو قسم کھا کر کہ سکون کہ “الله کی قسم پورا پاکستان کرپٹ نہیں ہے” 

باسط یوسف

Fog of my thoughts - | - میرے خیالات کی دُھند

Your comments are valuable. Subscribe by email or Message me directly from blog - | -

آپ کی آراء قیمتی ہیں۔ ای میل سے سبسکرائب کریں یا بلاگ سے براہ راست میسج کریں -.