آن لائن کاروبار-یا- مزدوری

کیا آپ آن لائن فروخت کی دوڑ میں ہیں؟ ای کامرس افسانہ؟ کیا آپ نے صرف چھلانگ لگائی اور بغیر کسی سمت کے بھاگے؟ کچھ بڑی سوشل میڈیا سائٹس پر پراڈکٹس کی تصاویر پوسٹ کریں، ان سائٹس کو ایڈورٹائزنگ فیس ادا کریں، ان کے اصولوں پر عمل کریں، ان کے احکامات کی تعمیل کریں اور پھر بھی وہ آپ کو کہیں بھی روک سکتے ہیں۔ ان کا آپ کے گاہک، آپ کی مصنوعات، آپ کے کاروبار، آپ کے اشتہارات اور آپ کی آمدنی پر مکمل کنٹرول ہے۔ سنجیدگی سے، کیا آپ اپنے کاروبار کے حقیقی مالک ہیں اور وہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں جس کے آپ مستحق ہیں؟

ایک لمحے کے لیے تصور کریں، آپ نے اس میں سے بہت سے پروڈکٹس کا انتخاب کیا، آپ نے پوسٹ کو ڈیزائن کرنے کے لیے اپنی محنت لگائی، آپ اپنے سوشل میڈیا پیج پر دوستوں، فیملی ممبرز کو اکٹھا کرتے ہیں، آپ بہت سے لوگوں سے شیئر اور لائک کرنے کی درخواست کرتے ہیں، اور اپنے پیج کو ہر ایک کو ریفر کرتے ہیں۔ آپ کی فہرست کا ممکنہ رابطہ اور آپ سوچ رہے ہیں کہ آپ اپنے کاروبار اور اپنے اسٹور کو فروغ دے رہے ہیں۔ جزوی طور پر، ہاں، لیکن مجموعی فائدہ سوشل میڈیا سائٹ کے لیے ہے۔ آپ اپنا پیسہ، اپنی کوششیں، اپنے رابطوں کو خرچ کر کے پہلے اس سائٹ کو اور پھر اپنے پیج کو شہرت دے رہے ہیں۔

میں اسے اس طرح سمجھتا ہوں، ایک کمپنی سوشل نیٹ ورکنگ کے لیے ایک کاروبار شروع کرتی ہے اور ہر ایک کو اس سائٹ میں شامل ہونے اور اپنے دوستوں سے جڑنے کے لیے راضی کرتی ہے۔ اس کے لیے، وہ آپ کی اپنی رابطہ فہرست استعمال کرتے ہیں اور پھر آپ کے رابطہ کو مزید قائل کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو اس سائٹ پر لانے کے لیے ایسا ہی کریں۔ مثال کے طور پر آپ کے دو سو رابطے ہیں، اور آپ کے ہر رابطے میں کم و بیش ایک ہی مقدار میں رابطے ہیں۔ مجموعی طور پر وہ ہزار لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اگر صرف دس فیصد لوگ اس سائٹ میں شامل ہو جائیں تو ان کے پاس صرف آپ کی رابطہ فہرست استعمال کرنے سے چار ہزار صارفین ہوں گے۔ کیا یہ احمقانہ بات نہیں ہے کہ ہم انہیں اشتہار دینے کے لیے مزید ادائیگی کرتے ہیں اور اگر وہ ہمارا اشتہار صرف ہماری رابطہ فہرست کے دائرے میں گردش کرتے ہیں تو وہ اس فہرست سے کم از کم چار ہزار آراء تک پہنچ سکتے ہیں جو ہماری فہرست تھی اور وہ آپ سے پیسے بھی لیتے ہیں۔

انہوں نے آپ جیسے صارفین کے فون ڈیٹا سے اربوں صارفین کو جمع کیا اور پھر اسے آپ ہی کو فروخت کیا اور آپ سے رقم وصول کی۔ کیا آپ اونچی آواز میں ہنس رہے ہیں؟کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ کسی مشہور سوشل ویب سائٹ پر شرٹس بیچ رہے ہیں تو اسی پلیٹ فارم پر سینکڑوں دوسرے بیچنے والے بھی ہیں، اور صارفین کو فون سے دوسرے فون پر اکٹھا کیا جاتا ہے۔ آپ اشتہار دینے کے لیے رقم ادا کرتے ہیں، آپ ان کے احکامات، ان کے اصولوں کی تعمیل کرتے ہیں۔ سمجھنے کے لیے کوئی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیشہ طریقہ کار، صلاحیت اور طلب یا رسد کے اصول ہوتے ہیں۔ میں کسی بھی تاجر کو بے ترتیب دوڑ اور مقابلے میں کودنے کا مشورہ نہیں دوں گا جس کا فائدہ صرف سائٹ کے مالک کو ہوگا۔ بیچنے والے کو کسی تیسرے شخص کو اپنی سرمایہ کاری، اپنی مصنوعات، اپنی کوشش اور حتیٰ کہ اپنے رابطوں سے پیسہ کمانے کی اجازت کیوں دینی چاہیے۔

ایک معیاری حکمت عملی جو اپنا وقت لیتی ہے، بنیادی عمل کو اپنانے میں، مناسب تربیت حاصل کرنے اور ایک اچھا ٹیم ورک قائم کرنے کے لیے جو فروخت کے لیے ایک مؤثر چینل تشکیل دے سکتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ “لائکس”، “فالورز”، “سبسکرائبرز” آپ کے گاہک ہیں؟ نہیں، مؤثر رسائی کا مطلب ہے ممکنہ صارفین اور ہر کوئی پیروکاروں اور سبسکرائبرز کے ارد گرد کھیلتا ہے۔ اس جال کو توڑیں، اپنا ای کامرس نیٹ ورکنگ قائم کریں جو مصنوعات اور خدمات کو بدل سکتا ہے۔

آپ کے بہت سے سوالات ہوسکتے ہیں اور آپ براہ راست بلاگ سے ای میل یا میسج کے ذریعے پوچھ سکتے ہیں۔

کیریئر اور ملازمت

کیریئر ایک حقیقی سوال ہے جو ذہن میں اس وقت آتا ہے جب آپ اپنی تعلیم کا پہلا حصہ ختم کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور بہت ساری “دکانیں” ہیں جو اپنے کورسز کو دلچسپ الفاظ اور گرافکس کے ساتھ اپنے “ممکنہ صارفین” کے مستقبل کے بارے میں امید افزا مکالموں کے ساتھ بیچتی ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیے کہ کیریئر دراصل کیا ہے؟ کیریئر ایک ایسی چیز ہے جو مکمل طور پر آپ کی ذہنیت، اہلیت اور دلچسپی پر منحصر ہے۔ یہ وہ چیز نہیں ہے جو اس وقت ٹرینڈ کر رہی ہے۔ آپ اپنی اکاؤنٹنگ ڈگری سے کماتے ہوئے گھر کی سجاوٹ میں اپنا کیریئر بنا سکتے ہیں۔ مبہم لگتا ہے؟ جی ہاں، یہ تھوڑا سا الجھا ہوا ہے جب تک کہ آپ ایک وسیع میدان میں نہیں سوچتے۔بہت سے لوگ اپنی ملازمت کو اپنے کیریئر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں اصطلاحات کے درمیان فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔

ایک اچھا کیریئر کسی ایسی چیز میں ہو سکتا ہے جسے آپ کرنا پسند کرتے ہیں۔ آپ کے تخیلات، آپ کی دلچسپی اور جذبہ آپ کو اپنے کیریئر کا انتخاب کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ سافٹ ویئر، اکاؤنٹنگ یا مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بلاشبہ، اگر آپ مینجمنٹ، سافٹ ویئر یا اکاؤنٹنگ سے محبت کرتے ہیں تو یہ آپ کے کیریئر کی لائن ہوگی۔ کیریئر کا انتخاب کرنے سے پہلے، آپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آپ انٹرنیٹ پر زیادہ بولی جانے والی اصطلاحات کے موجودہ رجحانات یا تعلیمی “کاروبار” کے اشتہارات سے متاثر ہوئے بغیر کیا کرنا پسند کرتے ہیں۔ اور غور کرنے والی دوسری بات یہ ہے کہ کیا سیکھنے کے وسائل اور رہنمائی کی کوئی اچھی دستیابی ہے؟ اگر آپ ویڈیو گرافی میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو آپ کو بہترین اسٹیشن تلاش کرنا چاہیے جہاں سے آپ سیکھ سکیں اور یہ ضروری نہیں کہ یہ کوئی تربیتی ادارہ ہو۔

اس لیے پہلے اپنی ملازمت کا انتخاب کریں جس سے آپ اپنی زندگی گزارنے کے لیے پیسہ کما سکیں اور اپنے کیریئر کے اہداف کو متوازی طور پر حاصل کر سکیں اگر آپ کا منتخب کردہ کریئر وہی نہیں ہے جو آپ نے پڑھا ہے۔ بدقسمتی سے، انٹرنیٹ پر گھومنے اور ویڈیوز اور مضامین تلاش کرنے سے، پھر اسے گھنٹوں دیکھنے سے آپ کی راہ ہموار نہیں ہوتی اور عام طور پر فریشرز سوچتے ہیں کہ راتوں رات کروڑ پتی بننے کے بہت سے آسان طریقے ہیں۔ تو اندر کی توانائی اور کچھ کرنے کا جذبہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ کامیابی کے لیے کوئی لفٹ نہیں ہے، آپ کو صرف سیڑھیوں سے ہی جانا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری مقامی تعلیم کا معیار کافی فرسودہ ہے اور اگر کوئی، کہیں نظام سے ہٹ کر طلبہ کو کچھ سکھانے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اسے فضول یا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔

جب ہم کیریئر اور کامیابی کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں تو بہت سی چیزیں اہم ہوتی ہیں۔ تعلیمی نظام، نصاب، پیشہ ورانہ رہنمائی، دستیاب وسائل اور ان وسائل کی قیمت، وقت، مواد کا معیار، تجربے کے مواقع اور سب سے بڑھ کر اساتذہ اور گورننگ باڈیز کا اخلاص۔ میں نے کتاب میں پڑھا تھا کہ تبدیلی طاقت سے نہیں آتی نیت سے آتی ہے۔ تو کیا ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہئے کہ ہمارے پاس مذکورہ تمام چیزیں اچھی حالت میں نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کامیابی کے بارے میں نہیں سوچنا چاہئے؟ ہرگز نہیں، یہ ایک قطعی حقیقت ہے جو تاریخ سے لکھی اور ثابت ہے کہ جن قوموں کے پاس محدود یا کم وسائل تھے، انہوں نے بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں اور اب وہ بہت سی چیزوں میں دنیا کی قیادت کر رہی ہیں۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ اپنے آپ کو مشکل حالات میں ڈالیں اور مدد کی توقع کیے بغیر، آپ کے پاس جو بھی ہے، آسان یا مشکل، چھوٹا یا بڑا، خامیوں کے ساتھ کام کرتے رہنا ہے۔ دنیا بھر میں بہت نامور لوگوں کی ناکامیوں کی سینکڑوں کہانیاں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آگے بڑھے۔ اب مضمون کو مختصر کرنے کے لیے، ممکنہ طریقوں کی طرف آتے ہیں۔

اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ کس قابلیت میں خاص ہیں۔ جس چیز میں آپ بہت ماہر ہیں۔ نہ صرف نظریات میں، بلکہ یہ بھی چیک کریں کہ آیا آپ کے پاس اپنے پورٹ فولیو کے طور پر پیش کرنے کے لیے کوئی عملی چیز موجود ہے۔ آپ کو کن وسائل کی ضرورت ہے اور آپ اسے کہاں سے ترتیب دے سکتے ہیں؟ متعلقہ پیشہ ور افراد سے ملیں اور ان سے مزید سیکھنے کی کوشش کریں۔ اچھے سوالات کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ ایک بار جب آپ اپنے آئیڈیا کو زیادہ سے زیادہ تیار کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ علم اکٹھا کر لیں گے، تو آپ مارکیٹ میں کودنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ کیرئیر کے شعبوں کو حتمی شکل دینے اور اس پر عمل کرنے کے لیے اہم اقدامات جو واقعی ضروری ہونے چاہییں درج ذیل ہیں:

سب سے پہلے، خود کا اندازہ لگائیں کہ آپ کس چیز میں اچھے ہیں۔
دوسرا، مواقع، وسائل اور ضروریات کے بارے میں تحقیق۔
تیسرا، حتمی مقصد حاصل کرنے کے لیے چھوٹے اہداف مقرر کریں۔
چوتھا، وسائل کا بندوبست کریں اور اس کیریئر کے حاصل کرنے والوں کی کتابیں پڑھیں۔
پانچویں، حقیقی لوگوں سے ملیں جو کسی بھی لحاظ سے اس کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور ان کے تجربات سے سیکھیں۔
چھٹا، ان لوگوں سے جڑیں جو کیریئر کے اسی طرح کے مقاصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ساتویں، اس سلسلے میں کچھ عملی تخلیق کرکے اپنے آپ کو ثابت کریں۔
آٹھویں، اپنی تشہیر کریں، خود کو برانڈ کریں۔
نواں، اپنی شخصیت اور اپنے کام کی جگہ کو تیار کریں جو آپ کے ذوق اور پیشہ ورانہ مہارت کو ظاہر کرے۔
دسواں، اور سب سے اہم، اپنے نقطہ نظر کو اعتماد کے ساتھ لیکن حقیقی علم کے ساتھ بتائیں۔ اگر آپ کو نا مکمل علم ہے تو مت بولیں، ہاں اس صورت میں آپ دوسروں سے سوالات کر سکتے ہیں۔

کیریئر ایک ایسی چیز ہے جو حقیقی آپ، آپ کے حقیقی باطن کی پہچان ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کی آمدنی کا ذریعہ اور آپ کا کیرئیر ایک ہی ہو۔ یہ ایک جیسا ہوسکتا ہے، لیکن ہمیشہ نہیں۔ ایک بار جب آپ کیریئر کے اہداف حاصل کرنا شروع کر دیں گے، آپ کو خود بخود اس سے پیسہ کمانے کا موقع مل جائے گا۔

ایک سافٹ ویئر انجینئر ایک بہت اچھا ٹینس کھلاڑی ہوسکتا ہے، ایک اکاؤنٹنٹ ایک بہت ہی شاندار وائلڈ لائف فوٹوگرافر ہوسکتا ہے اور ایک ڈاکٹر بہت اچھا کہانی نویس ہوسکتا ہے۔ اس لیے کیریئر کو ابتدائی ذرائع آمدن کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے، کیونکہ آمدنی کا ذریعہ کولڈ ڈرنک کی فروخت سے لے کر ٹریننگ تک، پارسل کی ترسیل سے لے کر اکاؤنٹنگ تک، ویٹر سے کھانا پکانے تک، فری لانس سے ملازمت اور ملازمت سے کاروبار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن کیرئیر ایک چیز ہے۔ جسے آپ اپنے ساتھ بہت دور لے جائیں گے۔ تو بس کھانا پکانے اور شیف بننے، کپڑے سلائی کرنے اور ڈریس ڈیزائنر کے درمیان فرق محسوس کریں۔

معلومات کی کثرت اور علم کا فقدان Sea of Knowledge and Lack of Wisdom
  
رمضان کے مہینے میں مصروفیات کے کم ہونے  وجہ سے مطالعاتی آوارہ گردی کرتا رہا. صرف طائرانہ نظر دوڑانے پر چکّر سا آ گیا. خدا کی پناہ پس منظر کے بغیر لوگ اپنے اپنے مطالعے کو حرف آخر سمجھ کر مواد کا پہاڑ کھڑا کر  رہے ہیں اور ٹی وی کے سامنے دن کا بیشتر حصّہ گزارنے والے یا مختلف قسم کے اخبارات چاٹنے والے بیچارے بینگن کی طرح لڑھکتے رہتے ہیں.
میں نے محسوس کیا (ہو سکتا ہے میں غلط ہوں) کے دنیا بھر میں لوگ ایک بنیادی چارٹر کو سامنے رکھتے ہیں اور پھر انھیں جو بھی معلومات دی جاے اسے اس پلڑے میں رکھ کر سوالات کرتے ہیں ، اب یہاں سوالات کے دو درجے ہو جاتے ہیں. سوالات براۓ بحث اور سوالات براۓ اصلاح. یہاں عمومی طور پر سوالات براے تنقید اور بحث کا رجحان زیادہ ہے کہ کسی طرح سامنے والے کی دلیل کو غلط اور اپنے موقف کو صحیح ثابت کر دیں.
بطور مسلمان ہمارا چارٹر کامل اور صحیح ترین ہے. شک کا ذرّہ بھی نہیں اور وہ  ہے قران مجید . تو اگر کسی کی بات کو تولنے کی نوبت آتی ہے تو قران کا پلڑا کامل ترین ہے. اب یہاں بات کو تھوڑا سا موضوع سے باہر لاتے ہیں. بطور مسلمان سب کا انتہائی مقصد کیا ہے؟ بیشک جنّت کو پانا اور جہنّم سے خلاصی. اور اس مقصد کے لیے الله نے اپنے محبوب سرور کائنات محمّد صل الله علیہ وسلّم کے ذریعے ہمیں بتا دیا کے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا.
اب اس بنیادی چارٹر کو خود پر لاگو کر کے ہر مسلمان آسانی سے فیصلہ کر سکتا ہے کے میری بنیاد ٹھیک ہے یا نہیں؟ مثلا جھوٹ دھوکہ تہمت فریب کینہ بغض حسد یہ عام  بیماریاں ہیں جو مجھ سمیت اکثریت کے اندر ہیں. دوسرا حرام کا نوالہ مثلا سود شراب حرام کردہ چیزیں زنا  جو کے واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ آنکھ کان زبان اور ہاتھ سب کا ہوتا ہے اس سے کون کون محفوظ ہے اور اس سے آگے یہ پڑھنے والے خود بھی جانتے ہیں. تو اگر میری بنیاد میں یہ بیماریاں ہیں تو میں بحث  کے اگلے صفحے پر تو آ ہی نہیں سکتا.

اب اگر مسلمان جنّت میں جانا چاہتا ہے اور وہ  کہتا پھر رہا ہے کہ میں مسلمان ہوں، دعا کرتا ہوں تو دعاؤں کے قبول نہ ہونے اور الله کی طرف سے جواب نہ آنے کی وجوہات تو واضح موجود ہیں. کینہ رکھنے والا، حرام کھانے والا ماں باپ کا نافرمان اور اس کے علاوہ دیگر. کیا ہم پہلی سیڑھی کے مسلمان بھی ہیں؟

آگے اس پر ستم یہ کے ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کرنا جو کے جھوٹا ہونے کی سب سے بری نشانی بتائی گئی. تو ہم اپنے اطراف میں دیکھیں کیا ہر جگا سے ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے آگے نہیں بیان ہو رہی؟  ٹی وی کی شکل میں، موبائل فون کی شکل میں، فیس بک کی شکل میں اور دیگر. جس طرح الله نے ہمارے لیے انعام رکھا ہے کے ہماری کہی ہوئی بات سے اگر کوئی سیدھے راستے پر آجاتا ہے تو اس کا اجر ہمیں بھی ملتا ہے بلکل اسی طرح اگر ہماری بغیر تحقیق کے آگے بڑھائی ہی بات سے اگر کوئی ایک بھی بھٹک جاتا ہے تو ہم خود اندازہ کریں کے کیا ہوگا. اور پھر بغیر تحقیق کے آگے بڑھائی ہوئی بات تہمت، الزام، غیبت ان سب چیزوں کی گندگی بھی اپنے اندر لیے ہے ہوتی ہے تو ہم اپنا کیا حال کر رہے ہیں؟

میرا ایک بہت اچھا دوست جو کہ فوج میں ہے، اور مجھ سے زیادہ محب وطن بھی ہے، جب اسکے منہ سے ایک مایوسی والا جملہ سنا   تو مجھے احساس ہوا کے حق اور سچ بیان کرنے کے ٹھیکے داروں نے اپنی نسلوں تک کو داؤ پر لگا دیا ہے. اور پیسہ ہی خدا بنا لیا گیا ہے. کیا بے شمار پیسے سے قبر کا عذاب ٹالا اور جنّت خریدی جا سکتی ہے؟ کتابوں اور آرٹیکلز کے ڈھیر پڑھنے کے بعد بھی ہم فکری طور پر لولے لنگڑے ہی ہیں؟

رائے زنی اور وہ بھی نامکمّل معلومات اور سطحی مطالعے کے ساتھ خطرناک اور نقصان دہ ہو جاتی ہے اور ویسے بھی ہم تو اب اتنے یتیم ہیں کے اپنی ہی معلومات کی تصدیق کے ذرایع محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ہم اپنی کی ہی تحقیق پر تنقید اور سوالات بھی برداشت نہیں کرتے. اگر آج اس چیز کی بنیاد ڈالتے ہیں تو کل اپنی نسلوں کے آگے سرخرو ہو سکیں گے ورنہ وہ خدانخواستہ  مزید بھٹکے گی اور ہم ہونق بن کر ان کو ڈوبتا دیکھتے رہیں گے…   .
Are we a Frustrated Nation?
It naturally happens to almost everybody when arrives from somewhere abroad, it seems very awkward when we compare ourselves with those we have just visited. Same thing always happened to me, but this time I feel it really intense and thought “Are we a frustrated nation”? Why it happened? Let me elaborate it in points :

1. When you exit from tube of aircraft, you see the different face of the same people who were with you at origin where we came from : like, they start talking loudly on cellphone, abusing, pretending themselves that they have been just returned from some kinda space or planet. Frustrated to be special, different and superior in any sense

2. When you see the authorities of of Airport, they seems like double-standard robots who react with everybody in a different way : smiling face in front of FOREIGN PASSPORT and STYLISH FOREIGNERS, creases on forehead in front of mediocre passengers, strict and professionals like in front of those who came here on holidays and many many more

3. Customs people shout at you as you are a criminal and smuggling drugs in Pakistan and they are PATRIOT SONS OF SOIL who are defending their soil from the criminals like us. Not a little piece of courtesy and riding all with same stick.

4. If you have some gifts for your family like, Video System, Laptops and Some Electronics that is normally allowed and logically not to sell/commercial purpose, then WARNING, HALT, these goods are suspicious and it contains a custom duty which we suppose to bypass intentionally and that is more than actual cost of good. When you seems afraid, then another business starts of bargaining.

5. When you SAFELY exit from the gate, then BEWARE of Taxi Drivers who are near to grab you with them and explain you why they are asking so much amount for that short distance travel.

After reaching home, when you start your routine life, you can observe the difference easily in first 2 3 days, coz after 2 or 3 days you’ll indulge in this and then you won’t see anything strange.

What you’ll observe, remember you are a part of this now and you don’t have STRANGER-LOOK, every seller will try to sell you at any cost by claiming his good superior than others. Uncontrolled traffic, everybody is abusing other without or on a nonsense reason. Police seems like robbers who stop you anywhere anytime without a reason and you’ll feel that you are the only responsible for worst law and order situation and you are the only one because of whom this traffic is disturbed.

You’ll see the mob who is demolishing the property of you and others like you, because of load shedding, blasphemy, some statement from a politician and target killing or whatever reason. They’ll block the main roads in peak rush hours and rest of them will be finding the way to reach their destination and in this way finding exercise there will be many clashes and wrestling happens.
When (God Forbid) you’ll face any robber on the road, you’ll feel you’re the only wealthy, satisfied and tension less person who is responsible for unemployment and let them commit a crime. They can shoot you even for Rs.500/- (I seen this in a news when I was abroad) and nobody can expect the justice for that blood-shed even you money and valuables. You’ll be silent because you know nothing will happen and you have to face more botheration.

After a day long on your work, you’ll behave like CHANGEZ and HALAAKU with your family, you’ll be hating a little noise, over-reacting on innocent mistakes of kids after absorbing abuses, noise, fight, lies, threats, miscommitments and then your kids and spouse will throw it to near ones…….

So this chain will spread hatred all around in continuous motion day by day. Is it true?, Are we a frustrated nation? if YES, WHY??? Please comment

What is Shia and Sunni? – License to Kill
I have been reading different articles and columns regarding Rawalpindi from last couple of days. Every columnist and writer is trying to define the different base of Sunni/Shia division. One writer is saying that it is the invention of ANGREZ (British Govt.), another is saying it is created by Indian Businessmen (HINDU SETH) at the time of partition and somebody is saying this fire has been burnt by America.

What I have studied is totally different in the books of history AND/OR somebody else have something else to describe. But one thing is common… There is a difference.. Now the questions is.. Is this difference gives license somebody to Kill his opponent? If YES, from where and how?

For a moment, we suppose that some Sunni abused Shia or those whom they followed so would those Sunni should be killed, burned or slaughtered? vice versa, if some Shia abused so should they been killed?

If YES then who allowed both sides to do so? Those people who they follows? Did they ordered like if somebody abuse me my followers should kill them brutally and put everything on fire? even without inquiring who was guilty, what he stated and how?

So is it that easy to kill somebody on road by just shouting “He abused XYZ”. and nowadays people strictly follow the “WAJIB” of “WAJIB UL QATL” instead of following thousand of  “WAJIBs” in Shariat. Who cares about the Salaah, Sunnah, Protection of Eyes and Tongue, Protection of Evil Desires, Music, Male/Female combined gathering that leads to Sin and many more…

We didn’t even studied the right Islam, we even didn’t know more than Namaz and Roza (Salaah and Fasting) I can bet that not even 5 from the gathering of 500 shouters (Type of people who only shout and destroy public property) on the road even know 10 Verses of Qur’aan with meaning and explanation or 10 Hadith with same. We don’t even know what our Beloved Prophet SAAW have said about Liars.

Well, conclusion, Muslims have more priorities to do and spread than killing somebody in the name ABUSE and BLASPHEMY as if we do not KILL a blasphemist, there is a chance of TAUBA (His submission to Allah and reversal from Sins towards Good) but if we return ABUSE against ABUSE or Hatred against Hatred, we can’t achieve our goals that has been defined by Beloved Prophet SAAW and all his Respected and honorable Companions RAA. May Allah guide us all to the Path of Righteous and his beloved ones.

اقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
اقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
 
دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم کہ جلاؤں
شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں؟
 
ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہراک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
 
شاہیں جہاں تھا آج وہ کرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملّا سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے
 
مر مر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہراک شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
 
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و رُوباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
 
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندۂ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو
اک بار تھا ہم چھُٹ گئے اس بارِ گراں سے
 
جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے
اُگتے ہیں تہِ سایۂ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تنِ خستہ پہ اب دانت ہیں سب کے
 
محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانئ جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پرجو خودی کا
مر، مر کے جئے ہے کبھی  جی ، جی کے مرے ہے
 
دیکھو توذرا محلوں کے پردوں کواٹھا کر
شمشیر و سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سو گئی طاؤس پہ آکر
 
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا توبڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کُھول کے دیکھا نہیں قرآن
 
کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈوھنڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
 
اقبالؒ تیرا دیس کہاں ہےکہاں جاؤں؟
Realize the value of time. Time in perspective.

Imagine there is a bank which credits your account each morning with $86,400, carries over no balance from day to day, allows you to keep no cash balance, and every evening cancels whatever part of the amount you had failed to use during the day.

What would you do?
Draw out every cent, of course!
Well, everyone has such a bank. It’s name is time.
Every morning, it credits you with 86,400 seconds.
Every night it writes off, as lost, whatever of this you have failed to invest to good purpose.
It carries over no balance. It allows no overdraft.
Each day it opens a new account for you.
Each night it burns the records of the day.
If you fail to use the day’s deposits, the loss is yours.
There is no going back. There is no drawing against the tomorrow.
You must live in the present on today’s deposits.
Invest it so as to get from it the utmost in health, happiness and success!
The clock is running. Make the most of today.

To realize the value of ONE YEAR, ask a student who failed a grade.
To realize the value of ONE MONTH, ask a mother who gave birth to a premature baby.
To realize the value of ONE WEEK, ask the editor of a weekly newspaper.
To realize the value of ONE HOUR, ask the lovers who are waiting to meet.
To realize the value of ONE MINUTE, ask a person who missed the train.
To realize the value of ONE SECOND, ask a person who just avoided an accident.
To realize the value of ONE MILLISECOND, ask the person who won a silver medal in the Olympics.

Treasure every moment that you have! And treasure it more because you shared it with someone special, special enough to spend your time.

And remember, time waits for no one.
Yesterday is history.
Tomorrow is a mystery.
Today is a gift. That’s why it’s called the present.

The origin of this text is unknown.

There’s a lot of variations on it, additions and even jokes. There’s some stuff connected with it and found on the Net:

To realize the value of ONE LIFETIME, ask someone who has missed his or her chance.

To realize the value of A SISTER, ask someone who doesn’t have one.
To realize the value of TEN YEARS, ask a newly divorced couple.
To realize the value of FOUR YEARS, ask a graduate.

To realize the value of A FRIEND, lose one.

To realize the value of ONE THOUSAND YEARS, ask a programmer who has programmed with 2 digits for the year’s value.
To realize the value of ONE HUNDRED YEARS, ask a Hong Kong resident who has witnessed the Handover.
To realize the value of SEVENTY YEARS, ask a dying Christian who has never shared the Gospel with others.
To realize the value of FORTY YEARS, ask an Israelite who has traveled in the wilderness.
To realize the value of SEVEN YEARS, ask a professor who did not get his sabbatical leave.
To realize the value of FOUR YEARS, ask a U.S. president who was not re-elected for the second term.

To realize the value of ONE MILLI-SECOND, ask the (electric) power engineer who has brought darkness to a city.
To realize the value of ONE MICRO-SECOND, ask the person who has bought a Pentimum machine.
To realize the value of ONE NANO-SECOND, ask the digital circuit designer who has just been promoted.
To realize the value of ONE PICO-SECOND, ask the analog circuit designer who has filed many patents.
To realize the value of ONE FEMTO-SECOND, ask the physicist who has won the Nobel prize.

To realize the value of ONE MICRO-SECOND, ask NASA’s Team of scientists.
To realize the value of ONE NANO-SECOND, ask a Hardware Engineer.

Business and Journalism
What motivate me to write these lines? I had seen a documentary by some TV channel. They are visiting in some poor population and show their lifestyle, their troubles, problems and all that. These kind of reports and documentaries are very common in TV channels. Off course, at one side these kind of findings and deliver it to public is a good job to know how they are facing problems and what are the lifestyle of them.

On the other hand, in my opinion, i thought it seems useless until a research journalist take it as a project. Because we see many things on TV like Injustice, Cruelty, Corruption, Lies, Cheating, Frauds and multiple problems. The objective should be to take it to the remedy. If you find a school that is being a hub of drug addicts, or a hospital where concerned people are careless and not doing their duties promptly, you should highlight it daily until a proper action is taken against them by authorities or residents.

We are just loading our archives with these kind of reports but how many action have been taken on them? and the area or organisation you visit goes in a mannered whey it should be?

It seems that it is an effort of making your airtime expensive, taking commercials and WAH WAH (appreciation)  from colleagues and friends. If you are working for a cause then a single change would be your life time achievement and if it couldn’t be in this world, definitely you’ll take reward in AAKHIRAT (afterlife).

Yes, we all knows there is lot of issues and problems, but if we have access to those, and we have a powerful background (MEDIA) so we can work on that in full throttle. We can visit there and take views, we can make this stick on our channel not only for airtime selling and commercials but as a project as well. As we have seen so many things that sticks on the media on regular basis, have had their rights or proper treatment on the issue.

We all knows, OUT OF SIGHT – OUT OF MIND, so I myself forgot many things after seeing and making a little voice in front of TV like CHU CHU or Oh my Gosh. So if we are anchor, producer, director or a script writer, we should keep in mind that if we are really serious about the issue we are shooting and documenting, we have to give it a continuous part daily. As an update, we should hammer an issue that there is no activity, there is no reaction and all that.

At last I would like to draw the attention towards the Advertisement that how a brand force minds to purchase the product or even test it as everybody see it 10s of time daily and same thing, same jingle and same models. So what will happen if our documentaries and research report updated daily to public about the idleness or activity of the concerned authorities or residents on the issue we draw in media.

20 Ways Of Training The Mind On Positive Thinking

The mind is a powerful tool. It’s important to train it properly if you wish to get the results you want in your life. Here are 20 simple tips for how to train the mind on positive thinking in order to get the results you want in your life.

1. Start the day with cheers and smiles.
Your whole day depends on how you greet the morning. Therefore, as long as you welcome it with energy and high spirits, everything will go okay. You don’t want the rest of the day to get ruined, do you? Come on, smile! It doesn’t cost anything but is worth everything.
2. Ask for guidance.
Only God knows what we will be having on the day ahead of us. He will surely appreciate a few minutes of praying and asking for guidance from Him. Also, have faith on Him that He is more than willing to grant our requests as long as it is for our own good. With God as our guide, we don’t have any reason not to say and believe in the thought that I can do this. I can make it through this day. Nothing is impossible. After all, God is with me.
3. Plan the day ahead.
To avoid mistakes that will cause negative output on your daily activities that will later on become negative thoughts, it is better to plan your work first; after which, work your plan. Make sure today’s goals are clearly defined and absorbed by your mind. This can be done even before you get out of bed each day, just so immediate addressing issues as they arise can be avoided.
4. Keep your mind focused on important things.
Set goals and priorities for what you think and do. Visualize practicing your actions. Develop a strategy for dealing with problems. Concentrate on things that need to be taken seriously, but at the same time, take time to relax and enjoy. This way, favorable results may take place.
5. Be detached from the outcome.
They say that life is like a Ferris Wheel; sometimes, you’re on the top, and sometimes at the bottom. This means that there will be times in our lives where some things would not turn out according to what we want them to be. Don’t be annoyed if you don’t get what you desire. However, do your best in everything you do. Only, don’t get too attached on the probable results that may only cause disappointments and upsets.
6. Try new things and challenges.
See learning and changes as opportunities. There’s nothing wrong in changing attitudes and routines as long as they are for the good and improvement of who you are and what you do. Doing new things may include considering more options for a project, meeting new people from different places, asking lots of questions. Through this, the flow of thinking is directed to improvement and negative thoughts will be easily eradicated.
7. Balance your desires.
We live in a place of opposites and duality of gain and loss, pleasure and pain, light and dark, male and female, love and hate. This is how the cycle of life goes. We can never have all the good things in life at the same time. In love, there will always be someone who gets hurt. In wealth, there will always be people who will not be fortunate enough. Measure and moderation is the primary key.
8. Be realistic.
Make sure that what you want is something possible. Hoping for something to happen which would never really materialize in real life will only bring you disappointment. For instance, you wish to lose weight. Therefore, you have to set a goal and act on appropriate measures within a period of time to achieve what you wish. Hey, No one can get slimmer overnight.
9. Keep track of your mental and physical health.
This way, you will know how far you can keep believing. Know yourself. There is no other person in the world who can tell who you really are. Know your passions, favorites, and principles. Spend some quality time by yourself reading, listening to music, day dreaming, and the likes. If you know yourself completely, you will be aware of how far can you go physically, mentally, and emotionally.
10. Love yourself.
Before you expect for other people to love and adore you, it is always you who needs to love yourself first. Make a positive commitment to yourself, to learning, work, family, friends, nature, and other worthwhile causes. Praise yourself as much as you praise others once in a while. When you start feeling confident about yourself, positive thoughts will naturally flow to your mind.
11. Laugh.
Enjoy. Have fun. Looking at the brighter side of life starts with entertainment and pleasure. Laughter is the best medicine, so they say. Whether your illness is physical or emotional, a few laughs and giggles can help you throw away heavy baggage such as anxiety, disappointment, or nervousness.
12. Keep a list of your goals and actions.
Familiarize yourself with things you want to accomplish and with the ways you must undertake to complete them. By the time you are certain of what you want to do and carry out in your life, a stronger mind and will power will exist within you.
13. Associate with positive people.
In every classroom, work place, or simply anywhere you go where there are groups of people, look for optimistic ones. There are lots of them, I’m sure. Associate with them, hang-out, discuss matters. They can help you build self-confidence and self-esteem.
14. Make it a habit to ask questions.
This is not equal to dumbness and ignorance; rather, it is associated with seeking more information and understanding matters clearly. With more knowledge, there is also more power.
15. Be open.
We have to accept the fact that we don’t know everything. And that we are continuously learning in every place we go, with every people we meet as everyday passes. We should not close our minds to new ideas and information that comes our way. Our mind is so spacious that it is impossible to fill it up completely. Thus, we should accept worthy things that may help us become better and brighter persons.
16. Have trust in other people.
Although it may seem difficult and risky to give trust to just any people, when you believe in them or confident on what they are doing for you, doubts and negative judgments on them will be unnecessary. Also, it will bring harmonious relationships between you and your colleagues.
17. Forgive and forget.
Mistakes and failures are the root causes of negative thinking. If we somehow learn to let go of all the pain, agony, and fear we try to keep inside our hearts and minds, then there will be nothing more to block our clear thoughts from being expressed. Forgive yourself for committing mistakes and forget these mistakes.
18. Learn from experiences.
Learning inside the classroom is different from learning outside it. In school, one learns the lesson first before taking an exam; while in real life, one takes the test first before learning the lesson. This test in the real life is our experiences. If we failed in that test, i.e. the experience is not so good, we study the situation and learn the lesson. From here, we can avoid committing the same mistake twice.
19. Count your blessings.
Focus on what you have rather than what you don’t have. Absence of our desires will only bring discontentment and disappointment that will only waste our time. Instead, be thankful and appreciative with all the blessings we receive.
20. Kiss your worries goodbye.
At the end of everyday, before going to sleep, there is no need to keep bad experiences and unhappy moments that had happened in the day within you. Let them go, throw them out of the window and kiss them goodbye. Dream sweetly. As a new day unfolds, new hope arises. Keep believing. Always have faith.
Innocent People. Why Innocent?
It is a common experience that we say somebody “An Innocent” who has faced some kind of vindictiveness from anybody. I thought on this a little and suddenly I got a little hierarchy in my mind that why things goes hard to somebody, I might be wrong but following are some examples to share and comment by you:
  1. Why everybody easily hit and tease a goat not lion? Because they afraid of reaction from lion that is harmful and not expect that harmful reaction from goat.
  2. A person goes to buy a new mobile phone connection from a shop and activate it via Customer Service department of that company. We have listen very polite voice “Assalam o Alaikum, Thanks for Calling XXX This is XXX how may I help you?” Suddenly we make a soft and gentle image of the company and its dealings. Once we activate the connection and get caught by the vendor then original responses takes place. Like:
    1. Customer : I dropped my balance by Rs.40/- without calling or text anywhere, why?
    2. Agent : Sir, Sorry for Inconvenience, You Complaint has been lodged and it take 48 hours to work on it
    3. Customer : 48 Hours?!! Deduction of money, switching package, calculations of call time and text takes a second and response on complaint takes 48 hours?!!
    4. Agent : Sir, It’s a process.
    5. Customer : (Angrily) what does it means? Can’t you tell me anything by seeing my log?
    6. Agent: Sorry for Inconvenience, Regret that you are facing problems but I can only lodge your complaint.
    7. Customer : (Angrily end the call)
This is the limit of the reaction of our Consumer or Common Man. And you can imagine by placing MNA, MPA, Grade 20 Bureaucrat, Defence Officer of Major & + Grade and same at the place of Customer above and imagine the response. You can see the difference by yourself.
Once I got invitation (As a Consultant) of seminar where top profile (Govt.) gentry were expected inside the hall. I have a friend with me who is on the officer post in Pakistan Army to experience the business speeches and presentations. When we reached at the main gate and tried to get inside, a gatekeeper stopped us and said “This is for VIPs you have to go by another gate that is behind.” (That was on the walk of almost 500 meters if we go all the way round.) I requested him to please let us in and check us properly because it is senseless to walk all the way there. But he didn’t agree to let us in. I decided to walk and move toward another gate but my friend stopped me and asked him (In typical FOJI style) to call his incharge. I tried to settle this mess and leave it but he didn’t want to. Suddenly the Incharge came and shouted. “O Bhai, Samajh main nahi aaraha ye VIPs kay liay hay. Peechay say jana hay to jao warna yehi kharay raho” (Hey You, Don’t you understand that this is for VIPs only. Go from another gate otherwise stay here.). I don’t wanted to make the scene there but my friend said him to come close and shouted “O konsay VIP jatay hain yahan say, aur hum koi achoot fakir hay, Invitation mila hay to aaey hain, Invitation par kiun nahi likha kay awam alag darwazay say jaey gi. Kia lag rahay hain tujhay shakal say?” (Which kind of VIPs passes from this gate? Are we seems some kind of untouchable to you? We are invited and you should write on invitation that Common Man should use another gate. What are we seems to you by face?) Suddenly he said “Ok Sir, come in?”  And when we passed the gate he tells Incharge about himself and Incharge saluted him.
These two are the very common cases of response on something wrong. We sometime even don’t ask the reason of high price when we are at some sophisticated surrounding. We make a rule by ourselves that “It looks cheap”.  So if anybody won’t response rightly on anything wrong or prejudice, it will happen again and again more hardly.  Being silent on something that is not true itself a prejudice.
We usually write and discuss senseless statements of politicians and movies, if we’ll practice to create awareness about the bias happened to common man, it will automatically create a change within days. As we recommend some restaurant by listening something from anybody’s mouth or say somebody good or bad by just reading in newspapers or “As seen on TV”.
Community development is one of the major necessities in current circumstance to let the people understand their values and value to their responses and comments. Otherwise everybody will come one by one and do whatever he want to do with us.
Fog of my thoughts - | - میرے خیالات کی دُھند

Your comments are valuable. Subscribe by email or Message me directly from blog - | -

آپ کی آراء قیمتی ہیں۔ ای میل سے سبسکرائب کریں یا بلاگ سے براہ راست میسج کریں -.