دو ارب لاشیں

آج کل سوشل میڈیا پر ہر پندرہ دن میں اسلام اور اسلامی اقدار کے حوالے سے کوئی نہ کوئی گند اچھالا جاتا رہتا ہے۔ اور اس کے جواب میں، ہر مسلمان کی بورڈز اور اسمارٹ فون پکڑتا ہے اور نام نہاد جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ ٹویٹر اور فیس بک کے ٹرینڈز، میمز، تاریخ کی تصاویر، قرآنی آیات، دھمکی آمیز اقتباسات وغیرہ۔ پھر یہ اجتماعی یا انفرادی طور پر باون اسلامی ” مُردوں ” تک جاتا ہے اور وہ سفیروں، نمائندوں کو بلا کر “اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں” اور میڈیا پر “مذمت آمیز بیانات” دیتے ہیں۔ .

کیا یہ ایک احمقانہ مذاق کی طرح ہے یا کچھ اور؟ پھر ہر کونے سے قیاس آرائیاں ہوتی ہیں کہ وہ اس قسم کی سرگرمیاں کرکے ہمارے ردعمل کو جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بکواس، انہیں ہماری توانائی کو جانچنے کی ضرورت نہیں، وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں کس قسم کی توانائی رہ گئی ہے۔ ہم دنیا کو اپنی تاریخ بتاتے ہوئے خوش ہیں۔ جو کچھ بھی ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا ہم اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

تھے تو آباء وہ تھارے ہي’ مگر تم کيا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو!

کون ہے تارک آئين رسول مختار؟
مصلحت وقت کي ہے کس کے عمل کا معيار؟
کس کي آنکھوں ميں سمايا ہے شعار اغيار؟
ہوگئي کس کي نگہ طرز سلف سے بيزار؟
قلب ميں سوز نہيں’ روح ميں احساس نہيں
کچھ بھي پيغام محمد کا تمھيں پاس نہيں

واعظ قوم کي وہ پختہ خيالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گيا ، تلقين غزالی نہ رہی

ایک وقت تھا جب مومن کی آنکھ تلوار کی طرح تھی اور اسے صرف ایک سمت کو گھورنا ہوتا تھا اور فوجیں تک پلٹ جاتی تھیں۔ اب میری بات کو معاف کر یں، ہم سب صرف بھونک رہے ہیں کسی کو پرواہ نہیں۔ لوگ اپنی انفرادی حیثیت میں رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے، تھپڑ مارنے یا جھگڑا کرنے یا مجسموں یا جھنڈوں کو جلانے میں خوش ہیں کہ بس حق ادا ہو گیا۔ ذرا تصور کریں کہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عزت کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں۔ تحفظ کا عام معنی میں مفہوم، حملے کے بعد ردعمل ظاہر کرنا نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ حملہ ہونے سے پہلے ہی اقدامات کر کے اسے روکنا ہے۔ ہمارے مذہب اور اس مذہب کے ستون کی توہین کرنے کی جرأت کوئی کیسے کر سکتا ہے جس کے لیے ہر مسلمان اپنی جان تک قربان کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

میں اسے اپنے باقاعدہ مضمون کے طور پر نہیں لکھنا چاہتا، صرف طوالت سے بچنے کے لیے۔ وہ آنکھیں جو شکوہ اور جواب شکوہ جیسی شاعری کے بعد بھی نہیں کھلیں، وہ خون جو صحابہ اور پھر عثمانیوں کی تاریخ جان کر بھی ٹھنڈا ہے۔ وہ رویہ جو کئی ادیبوں، صحافیوں اور سیاست دانوں کی طرف سے توہین کے بعد بھی دفاعی ہے، سفارت کاری کے لنگڑے دلائل پیدا کر رہا ہے۔ مجھ جیسے احمق کی چند سطروں کے بعد کیا تبدیلی آئے گی۔ لیکن درحقیقت، میں صرف اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ہماری نسل کو اسلام کی طرف سے چلائی جانے والی حکومت، نظامِ حکومت اور طرزِ حکمرانی کے بارے میں بھی کوئی اندازہ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی، ویڈیو گیمز میں جنگیں لڑنا، کمپیوٹر میں سلطنتیں بنانا اور جنسی تعلقات کی تلاش سب سے بڑی سرگرمی ہے۔ ہم نے اپنی نسلوں میں بزدلی پیدا کر دی ہے اور آنے والے وقت میں اس گناہ اور جرم کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہم واقعی پانی پر جھاگ کی نسل ہیں جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔ ہمارے پاس متحد آواز نہیں ہے، ہر کوئی لیڈر بننا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے اپنی “ایک انچ کی سلطنت” بنائی ہے تاکہ وہ ایک بادشاہ اور لیڈر کا پروٹوکول لے سکے چاہے اس کے پاس صرف سینکڑوں میں “رعایا” ہوں۔ .

جب تک ہم باون مجسم ممالک میں یکساں اقدامات کرنے پر متفق نہیں ہوتے، جب تک ہم ایک اور متحد آواز نہیں رکھتے، جب تک ہم اپنی نسلوں کا نہیں سوچیں گے اور مغرب کی اندھا دھند اطاعت کرنا نہیں چھوڑ یں گے، جب تک ہم اسلام کو نجات کا واحد راستہ نہیں سمجھیں گے، اور جب تک ہم اپنے مذہب اور پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے معاملات میں غلامانہ شائستگی سے باز نہیں آتے، تب تک مختلف ممالک میں کانفرنسیں کرنا، احتجاج ریکارڈ کرنا، مذمت کرنا، اجتماعات کرنا اور بے شمار پیسے خرچ کرنا اور ان کی طرف سے معافی کے چند الفاظ پر خاموش رہنا بے سود ہے۔ بیکار ہیں

دوسرے ہماری عزت نہیں کر رہے کیونکہ ہم اپنی بھی عزت نہیں کر رہے۔ ہم اسلام پر عمل نہیں کر رہے اور پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطاعت نہیں کر رہے تو پھر ہم دوسروں سے احترام کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہونے پر بھی خوش نہیں ہیں اور ہم اپنے مذہب پر بھی عمل نہیں کر رہے، ردعمل بھی نہیں کر رہے۔

اللّٰہ ہم سب کو صحیح اور اپنے پسندیدہ راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وضاحت: لکھا جانے والا مواد اکثریت کے مشاہدے پر ہے۔ کلی طور پر حرف آخر نہیں۔

سیاست اور چنگیزی

ہم ہائبرڈ جنگ کے دور میں رہ رہے ہیں۔ آج سیاست دان عام آدمی کو اپنی کامیابیوں کے بارے میں قائل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ آس پاس کے سب لوگوں میں واحد اچھا ہے۔ پاکستان، وہ سرزمین جسے برصغیر کے مسلمانوں نے صرف ایک وجہ سے قائم کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ کیوں؟ طرز زندگی، ثقافت، عقیدے اور مذہبی طریقوں میں فرق کی وجہ سے۔ تو نئے وطن کی پالیسی کیا ہونی چاہیے؟ یقیناً، جہاں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ اور آزادی کے ساتھ مذہب پر عمل کرنے کے لیے یہ بنیادی بات ہے کہ ریاست کا نظام مکمل طور پر اللہ کے حکم پر ہو۔ ٹھیک ہے؟

پچھلے بیس سالوں سے میں نے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو اس ملک میں مذکورہ نظام کو نافذ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ ہم نے ایک ایسا آئین بنایا ہے جس کی شروعات “حکمرانی اللہ کی ہے” سے ہوتی ہے اور نظام کو نافذ کرنے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے ریاست کا چیف ایگزیکیٹو مقرر کردہ شخص اللہ کا نائب ہوتا ہے۔ کیا یہ مضحکہ خیز نہیں ہے کہ اگر کسی سے یہ پوچھا جائے کہ اسلامی نظام دراصل کیا ہے تو ان تمام اشرافیہ میں سے کوئی بھی صحیح جواب نہیں دے سکے گا جو کہ اقتدار میں تھے اور ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ وہ اقتدار میں بھی کیوں اور کیسے ہیں اگر وہ اس بنیادی چیز کے بارے میں نہیں جانتے جو لاکھوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی ریاست میں نافذ ہونی چاہیے؟ باقی تمام نکات کافی مبہم ہیں اور کیا انہیں ابھی تک عدالتوں سے وضاحت کی ضرورت ہے؟ جیسا کہ ہم آج کے سیاسی منظر نامے میں دیکھ چکے ہیں۔

سب سے پہلے، کیا ہمیں قرآن کے بعد آئین کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں، تو کیا یہ آئین ہمارے مذہب کی ہدایات کا عکاس نہیں ہونا چاہیے؟ اور اگر اب بھی ایسا نہیں ہے تو کون ان شقوں کی اصلاح کرے گا جو مذہبی ہدایات سے متصادم ہیں۔ ہمارے پاس دسیوں سیاسی جماعتیں ہیں جن کے منشور اور نظریات مختلف ہیں۔ ووٹروں کی اکثریت منشور اور نظریے کی پرواہ نہیں کرتی۔ ان کے پاس صرف کچھ پیری مریدی، تجارتی فوائد، جاگیردار اور مزدور، رشتہ دار، ذاتی کشش ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کیلئے کافی وجہ ہے۔ اور منشور، نظریہ اور کردار کو سننےاور سمجھنے والوں کا تناسب بھی بہت کم ہے لیکن یہ کم تناسب تبدیلی نہیں لا سکتا۔ کیا انتخابی عمل قوم یا معاشرے کی ترقی کے لیے ہے یا صرف اکثریت کی مرضی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے؟ کیا ایسا نہیں لگتا؟

ایک بار جب ہم جمہوری عمل کو آگے بڑھاتے ہیں، تو ہم ووٹ کا حق دیتے ہیں اور پھر ایگزیکٹو کو منتخب کرنے کے لیے ووٹوں کی گنتی کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ جس ملک میں خواندگی کی شرح تیس فیصد سے کم ہو اور لوگ زیادہ باشعور نہ ہوں وہ اس بارے میں بہتر رائے کیسے دے سکتے ہیں کہ کس کو ایگزیکٹو یا قانون سازی کا اختیار دینا ہے؟ تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ کرپٹ لوگوں کی اکثریت ایک کرپٹ ایگزیکٹو کا انتخاب کر سکتی ہے جو باقی لوگوں کے لیے جہنم بن جائے گی۔ جمہوریت کو انسانی زندگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسلام ہمیں شوری کا تصور دیتا ہے۔ یہ قابل لوگوں کے ایک سمجھدار، منتخب کردہ گروپ کے ساتھ کام کرتا ہے جو غیر متنازعہ ہیں، اپنے متعلقہ شعبوں میں ماہر ہیں اور باہمی طور پر ایک ایگزیکٹو کو منتخب کرنے کے لیے ایک بہترین مستقبل کا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

بدقسمتی سے، اس پر عمل کرنے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن اس کی اصل روح کے ساتھ نہیں۔ یہ عام طور پر ان لوگوں کو پیچھے دھکیل دیتا ہے جو بنیاد پرست ہو سکتے ہیں، مضبوط موقف اختیار کر سکتے ہیں چاہے وہ کسی کے بھی خلاف ہو لیکن حق کے ساتھ۔ اور پھرسیاسی فائدے بھی اس کے ساتھ جڑے ہیں۔ کسی نہ کسی طرح یہ مثبت اور منفی ذہنیت کا امتزاج بن جاتاہے جو اسے قوم کی تعمیر اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے نااہل بنا دیتا ہے۔ مزید برآں، طاقت کا لالچ اس میں مزید خرابی پیدا کر دیتا ہے اور غداری کی طرف لے جاتا ہے جس سے دشمنوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس مادیت پرستی کے دور میں مخلص، محب وطن اور ایسے لوگوں کو جمع کرنا بہت مشکل ہے جو ایگزیکٹوز کے انتخاب کی اتھارٹی بنیں۔

ممکنہ آپشن واضح ہے. ایک خود مختار مشاورتی بورڈ جو واضح طور پر منتخب اور اہل افراد کے ذریعے چنا گیا ہو۔ یہ ووٹرز چھوٹے گروپوں کی قیادت سے ہونے چاہئیں جن کا اپنے حلقوں میں ایک منصفانہ پس منظر اور پہچان ہے۔ اس کونسل کی کارروائیوں اور ذاتی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک مانیٹرنگ باڈی کی بھی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ایک مضبوط عدلیہ جسے کسی ایک فرد کے ذریعے نہیں چلایا جانا چاہیے۔ اور انتخاب کے طریقہ کار کو ایڈوائزری کونسل کی طرح ہی نافذ کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے موجودہ نظام میں آمریت جیسی خامیاں ہیں۔ طاقت کی غیر متوازن تقسیم، مینڈیٹ کی حدود سے تجاوز، ذاتی انتقام، اقربا پروری، ریاستی اداروں کو ذاتی غلامی کے طور پر استعمال کرنا اور ہر وسائل کو بغیر چیک اینڈ بیلنس کے استعمال کرنے کا اختیار۔ جب طاقت کا صرف ایک مرکز ہو اور اسے بغیر کسی جواز کے کسی بھی چیز کو قبول کرنے اور انکار کرنے کا زیادہ اختیار ہو تو اس سے پورے نظام کو نقصان پہنچے گا اور کسی کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ تمام سیاستدان اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں قسمیں کھاتے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی کے اندر یا باہر کوئی اسلام نہیں ہے۔ صرف ایک چیز ہے جس کے لئے وہ برسوں سے لڑتے رہے ہیں وہ ہے حکمرانی۔

اس مضمون کو “عمر بن عبدالعزیز کے دور” کے ایک مختصر سبق پر بند کریں گے جس میں لوگ چاہتے تھے کہ وہ انہیں حکمران بنائیں لیکن انہوں نے کئی بار انکار کیا اور آخر کار قرعہ اندازی پر فیصلہ ہوا۔ اور پھر بھی، جس کیلئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اس کا نام قرعہ میں حکمرانی کے لیے نہ چنا جائے۔ کیوں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ “اگر فرات کے کنارے پر بکری کا بچہ بھی پیاس سے مر جائے تو اللہ کے سامنے وہ جوابدہ ہوں گے۔”

ہم بہتری اور ترقی کی طرف تب جا سکیں گے جب :

حکومت کو عیاشی نہیں کٹھن بوجھ سمجھا جائے گا

جب نمونہ مغرب نہیں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز حکومت ہوگا

تقوی ابوبکر رضی اللہ عنہ والا، عدل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ والا، حیا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ والی اور عدالت و شجاعت علی المرتضی رضی اللہ عنہ والی ہوگی۔ اور ان سب خصوصیات کیلئے رعایا یعنی ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والے اوصاف پیدا کرنے پڑیں گے۔

بقول اقبال

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار

لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

نیّت کی تبدیلی

 ہمیشہ لکھنے کے لئے روز مرہ زندگی میں آنے والا کوئی واقعہ یا راہ چلتے دیکھا جانے والا کوئی “اسٹنٹ” سوچ کے بہت سارے دریچے کھول دیتا ہے.

اب چونکہ کرونا کے ڈرامے میں “شارٹ بریک” آیا ہوا ہے تو ہر وہ  طاقت جو یا تو اس راز سے واقف ہے یا اس کے دور رس اثرات یا اس میں چھپے بھیانک منصوبے کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے، خود کو آنے والی دوسری قسط کے لیے تیار کر رہی ہے.  مثلا گھروں سے بیٹھ کر کام کرنے کی منصوبہ سازی ہو یا اپنی دکانداری کو “آن لائن” میں تبدیل کرنا. ملازمین کو اس بہانے سے فارغ کرنا ہو یا کسی چلتے کاروبار کو “ایس او پی ” کے نام پر گرانا. کسی ملک کو مرض پھیلنے کی وجہ بتا کر اس کے لوگوں کی دنیا بھر میں سفر پر پابندی سے لے کر ظالمانہ ٹیکس یا سرچارج لگانا. ہر طریقے سے سب اپنی تیاریوں میں مصروف نظر آ رہے ہیں.

فی الحال حق اور باطل کو ایک طرف رکھ کر اپنے فائدے یا نقصان کے ترازو میں تول کر اتحاد اور اختلاف کیے  جا رہے ہیں. اور ہم، بحیثیت ایک بیوقوف، بدقسمت اور ریوڑ  قسم کی قوم کی مانند اپنے اندر موجود نفس اور لالچ سے تعلیم شدہ ارسطو سے ہدایت لے کر کسی پر بھی اچھے اور برے یا حق اور باطل کا فتویٰ لگا کر اس کے پیچھے چل پڑے ہیں. تقسیم کی عالمی سیاست نے ہر قوم، ملک، مذہب اور ذات کے ٹکڑے در ٹکڑے کر سب کی الگ الگ سلطنت بنا کر ایک ایک گھر میں تین تین حکومتیں بنا دی ہیں اور ان پر ایک ایک خود ساختہ بادشاہ مسلّط کر دیا ہے جو اپنے علاوہ کسی اور کو ٹھیک سمجھنے کے لیے تیار نہیں.

ہماری بد قسمتی کہ ہم اپنے پسندیدہ سیاسی لیڈر کے.ہونے والے جلسے جلوس اور احتجاج کے لئے تو اپنا جان مال وقت لگانے کے لیے تیار ہیں مگر ہماری اولاد اور آنے والی نسلوں کے لئے نہ کوئی سوچ ہے اور نہ ہی منصوبہ بندی. سیاسی لیڈر ایک تقریر کرتا ہے میں کرسی کے لئے نہیں بلکے آپ کے لئے لڑ رہا ہوں تو ہم اسکی بات سن کر  خلاف بغیر غور کئے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور اپنی تمام غلطیوں اور کوتاہیوں کا ذمے دار مخالف لیڈر کو کہتے ہیں.

کمزور کی کوئی غلطی یا چوری سامنے آجاۓ تو ہمارے اندر کا “امیر المومنین” جاگ جاتا ہے جبکہ طاقتور کی ثابت شدہ چوری پر ہم “ولی الله” بن کر شرعی حوالہ ڈھونڈتے ہیں کے صبر اور معافی کی کون کون سی احادیث موجود ہیں. پھر چونکہ ہماری ایک اکثریت فکری طور پر بھی لولی لنگڑی ہے تو غلط سوال، غلط جواب اور غلط دلیل کو ملا کر جو مباحثہ شروع ہوتا ہے وہ بجاتے ہماری ذہنی نشونما کے الٹا بسا اوقات صحیح سوچ رکھنے والوں کو بھی ڈگمگا دیتا ہے اور جسکا اثر آپ اکثر ٹیلی ویژن پر بیٹھے نام نہاد دانشوروں میں دیکھتے ہونگے. 

اب سوال اٹھتا ہے کے ہمارے مسائل تو ہم دن رات سنتے رہتے ہیں مگر انکے حل کی طرف کسی کا رخ نہیں تو میری ناقص راۓ میں مسائل کے حل کے لئے طاقت اور وسائل سے زیادہ نیّت کی ضرورت ہوتی ہے جو اوپر سے نیچے تک کہیں نظر نہیں آتی. نہ مجھ میں اور نہ میرے حکّام بالا میں. ہمیں یہ تو پتا ہے کے “درود شریف پڑھ کر آگے فارورڈ” کرنے سے کتنے لاکھ درود کا ٹارگٹ پورا ہوگا مگر خود کو بدلتے ہے اور لوگوں کے لیے بطور مثال سامنے آتے ہوے ہمارے معاشرے میں کس قدر تبدیلی آئے گی اس کی “کیلکولشن ” تھوڑی کمزور ہے.  سڑک پر ہونے والی ڈھٹائی اور غلطی کے جواب میں اگر “تو مجھے جانتا نہیں ہے” اور “یہیں گاڑ دوں گا” کے  بجائے  “کوئی بات نہیں” اور دھیان سے چلیں آپ کو چوٹ لگ جاۓ گی” شامل کر دیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق پچاس فی صد بد تہذیبی اور جنہوں نے اسے دیکھا اس سے اچھی اقدار کی “مشہوری” ستر فی صد تک ہو جاۓ گی.

اور ان سب کے لیے “میرے پاس تم ہو” اور میرا جسم میری مرضی” کے بجاتے معاشرتی تربیت کا ہر علاقے میں انتظام کیا جاۓ اور جو پیسہ سیاسی اشتہار بازی اور حکومت کے کارناموں کے پرچار میں صرف ہوتا ہے وہ ایسے کاموں میں استعمال کیا جاۓ بجاۓ سالوں کے اسکا اثر مہینوں میں نظر آنا شروع ہوجاۓ گا. اور اس کے لیے ٹی وی پر دو لوگوں کو غصّہ دلا کر تماشا کرکے لاکھوں بٹورنے والے “اداکاروں” کو اپنی وہ حب الوطنی اور سچائی جس کا راگ وہ گھنٹوں الاپتے ہیں، ثابت کرنے کا موقع دیا جاۓ کے وہ اپنے کچھ گھنٹے اس نیک کام میں بلا معاوضہ فراہم کریں.

اسی طرح کے کچھ اور “سستے اور ٹکاو” حل کچھ نشستوں میں حاصل کے جا سکتے ہیں. اور غالباً الله نے اعمال کا دارومدار نیّت پر رکھا ہی اس لیے ہے کہ اگر وہ  خالص ہو تو عمل میں آنے والی ہر مشکل آسان بھی لگتی اور جذبہ بھی تازدم رہتا ہے.

الله مجھے اور سب کو حق کا راستہ ڈھونڈنے اور اسکی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرماۓ .

نیا معاشی اورمعاشرتی نظام

پچھلے آرٹیکلز میں آپ نے پڑھا  کہ اس گورکھ دھندے میں نقصان سے زیادہ فائدے نظر آرہے ہیں . کس کے ؟ یہ بھی تحریر میں آچکا  اب آگے چلتے ہیں .

چونکہ  اب دنیا میں انسان دوستی، اسکی مدد کا پرچار بڑی  تیزی سے جاری ہے، اور اقوام متحدہ بھی زور و شور سے انسانیت کا راگ الاپ رہا ہے. سوچنے کی  بات یہ ہے کہ شام، فلسطین، افغانستان اور دیگر ممالک میں جب ہزاروں کی تعداد میں بچوں بڑوں کو موت کے گھات اتارا جا رہا تھا تو یہ ادارے حرکت میں کیوں نہیں آئے اور اس بیماری میں ایسا کیا ہے جس میں اموات کی تعداد بھی ان سے کہیں کم ہے. اور اس انسان دوستی کے مسیحا کون ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جنھیں دنیا پر حکومت چاہیے اور یہ میرا انکشاف نہیں ان کی اپنی تقاریر میں ایسے کئی انکشافات ان کی اپنی زبانی موجود ہیں..

پلاننگ کا عالم یہ ہے کہ انسان پر حکومت کرنے کے لیے اس سے جڑی ہر چیز کو اپنے تابع بنانے کا یہ مکروہ عمل کسی ڈر اور خوف کے بغیر ڈنکے کی چوٹ پر جاری ہے . اپنے خلاف ہونے والی ہر بات اور معلومات کو بغیر وجہ بتاے غائب کر دینا، اپنے نظریے سے اختلاف رکھنے والے کے لیے قانون سازی، اپنے ہر ظالمانہ عمل کو قانونی تحفّظ اور دنیا کو جمہوریت، آزادی اظہار رائے  اور انسان دوستی کے خوبصورت لبادے میں زہر آلود کرنا. چونکہ بنیادی نشانہ اسلام ہے اس لیے دین بیزاری، علماء سے اختلاف، اور اسلام کے تمام شعبوں پر ضرب لگانے کا سلسلہ شروع  ہوچکا اور کفر اور الحاد کو اسلام کے لباس میں ہماری نسل کی اندر سوشل میڈیا، میڈیا اور بھانڈ میراثیوں کے ذریعے اتارا جانے لگا. پہلے مسجد کی اہمیت ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور اسکے بعد علماء کے خلاف ایک بھرپور “کمپین” کا اندیشہ ہے. 

روک فیلر ، بل گیٹس ، روتھس چائلڈ، جے پی مورگن . جان ، ہوپکنس ، مونسنٹو، ڈیو پونٹ،  سنجینٹا اور کچھ اور چھوٹے پٹھو. ان سب کی “کھدائی” کرنے پر جو حیرت انگیز بات سامنے آئ وہ یہ کہ یہ سب آپس میں جڑے ہوے ہیں. مثال کے طور پر روک فیلر اور بل گیٹس ویکسین کے “
دھندے” میں، مونسنٹو اور سینجینٹا زرعی بیج اور فصلوں کو ، اپنے نام سے پیٹنٹ کرانے میں ، بل گیٹس اور مونسنٹو ناروے کے دور دراز علاقوں میں ان بیجوں کو محفوظ کرنے میں، راک فیلر اور مونسنٹو دواوں میں، اس کے علاوہ نیوز چینلز کے کاروبار میں، دنیا کے ہر بڑے ملک میں بینک کھولنے میں اور بہت کچھ. مزے کی بات یہ ہے کے یہ سب لوگ دل کھول کر ڈبلیو ایچ او کو فنڈنگ کرتے ہیں اور اس کی پالیسیز  پر ان کی اجارہ داری ہے.  اب آگے چلتے ہیں. 

ان لوگوں کا پہلا ہدف چھوٹے کاروبار کو سرے سے مٹانا یا ان کو مجبور کرنا کے وہ بڑے “جائنٹس” میں ضم ہو جائیں اور ان کے ملازم یا صحیح الفاظ میں “غلام” ہو کر کام کریں. اس کا ٹیسٹ کیس آپ آج کل “ایمیزون” اور “علی بابا ” کی شکل میں دیکھ ہی رہے ہیں. لوگ اپنے کاروبار سے ہٹ کر ایمیزون . اور دو تین بڑی کمپنیوں میں اپنا سامان بیچنا سیکھ رہے ہیں  دنیا کو نئے تجارتی اور کاروباری مزاج کی طرف دھکیلا جا چکا ہے. کیا درآمد ہو گا کیا برامد ہوگا ، کس سے اجازت اور سرٹیفکیٹ لینا ہوگا، اچھے یا برے کا فیصلہ کرنے والا کون ہوگا، ادائگی اور وصولی کس ذرایع کیا ہونگے اب یہ سب کچھ بظاھر کسی ان دیکھۓ  ہاتھ سے ہوتا نظر آرہا ہے . اب اس خوف کی تجارت اور ڈر پر منحصر معاشرے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جہاں سب کچھ کسی ممکنہ وبا یا بیماری کے زیر سایہ ہوتا نظر آرہا ہے. 

غریب ملکوں کو کیسے پابند بنانا ہے؟ نہ ماننے والوں کے ساتھ کیا کرنا ہے؟ عوام کو ڈرا ڈرا کر بے حال کرنے کے بعد اب عوام کتنی آسانی سے قابو آئے گی؟ اوپری طاقت کیسے چاہئے؟ اور ان کے “فرنٹ لائن” اتحادی کون ہوسکتے ہیں؟ ان سب پر انشاء الله اگلے آرٹیکل میں..

میرے تمام آرٹیکلز کسی مفروضے یا “تھیوری” کا حصّہ نہیں   اس ساری تحقیق کے حوالہ جات موجود ہیں. جو پچھلے چار سالوں میں کئی مختلف موضوعات پر کی ہے. 

یقین کی جنگ

انسان کی دنیا پر حکومت کرنے کی خواہش ہزاروں سال سے چلی آرہی ہے۔۔کبھی فرعون کی شکل میں میں کبھی نمرود اور کبھی چنگیز و ہلاکو۔۔ مگر جب یہ خواہش ایک حتمی ہدف بن جائے اور اس کو کرنے والے اس کو اپنا مذہبی فریضہ جان کر کریں تو یہ ایک منظم اور بھر پور حکمت عملی بن جاتی ہے

پچھلے آرٹیکلز میں ہم نے طریقہ کار اور ممکنہ اقدامات پر بات کی۔۔ اب ہم اس کے دو رخ دیکھیں گے۔معلومات کے اس طوفان میں آج کل روز مرہ نئی نئی تھیوریز دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں اور مرکز ہمارے ذہنوں میں خود کو مسلط کرنے کے بعد یہ سمجھاتا ہے کہ فلاں چیز قابل اعتماد ہے اور فلاں نہیں۔۔ اور ہم من و عن اس کو تسلیم کر کے اپنا نقطہ نظر ترتیب دیتے ہیں۔۔اس کو سمجھنے کے لئے ایک مثال سے مدد لیتے ہیں۔

فرض کریں ایک پروگرام ترتیب دیا گیا جس کے تحت کسی قوم کو کوئی کھانے کی پراڈکٹ بیچنی ہے۔۔ اور اس سے کچھ پوشیدہ مقاصد حاصل کرنے ہیں۔۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ اگر یہ راز کھل جاتا ہے تو پلان بی کیا ہے۔۔اس کےلئے ضروری ہے وہاں کا ڈیٹا جو یہ بتائے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔۔ کس کی مانتے ہیں۔۔ رد عمل کیا ہوتا ہے اور کن عوامل کا ذہن پر اثر لیتے ہیں۔۔ جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ۔۔لوگ عیسائیت کی طرف راغب ہیں۔۔ کچھ کٹر ہیں اور کچھ “فلیکسیبل” ہیں۔۔ وہاں کے مقامی پادری کی مانتے ہیں اور اس کا مخالف ایک دوسرا پادری ہے۔۔ عیسائیت پر ضرب لگانے سے دو طبقے بن جاتے ہیں۔۔ جن میں سے ایک لڑنے مرنے پر آجاتا ہے جبکہ دوسرا اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سخت رد عمل نہیں دیتا۔۔اور اگر ان کو کوئی کتاب یہ کہہ کر دی جائے کہ یہ بہت خفیہ ہے اور کئی جگہوں پر اسکو پڑھنے پر پابندی ہے تو وہ ضرور پڑھتے ہیں

اب اس کیلئے جو حکمت عملی بنے گی وہ کچھ یوں ہوگی۔۔ کہ اس پراڈکٹ کی لانچ سے پہلے ایک گروپ ایک پادری سے رابطہ کرے گا اور دوسرا مخالف سے۔۔ ایک گروپ پراڈکٹ کے حق میں دلائل دے گا اور دوسرا اس پراڈکٹ کے برخلاف۔۔ اور اس طرح پہلے فیز میں پراڈکٹ زبان زد عام ہو گی۔۔مخالف پادری کو پراڈکٹ کی اصل قباحت بتانے کے بجائے من گھڑت کہانی بتائی جائے گی اور کو شش کی جائے گی کہ مخالف پادری اپنے پیروکاروں کو زور و شور سے وہ قباحتیں بتائے اور پادری نمبر ایک کو “کنونس” کیا جائے گا کہ جو بتایا جا رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہے اور پراڈکٹ ٹیسٹ بھی کروائی جائے گی جس میں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ تو پادری نمبر ایک اسے کلیئر کر دے گا۔۔ اور جیسے ہی وہ کلئیر کرے گا مخالف پادری اسے دشمنوں کا ایجنٹ کہہ کر پروپیگنڈا کرے گا۔۔کٹر قسم کے لوگ جو دشمن سے پہلے ہی نفرت کے جذبات رکھتے ہیں وہ کنفیوز ہونگے اور پادری نمبر ایک سے شک و شبہ یا کم از کم اس پر یقین کو ہلکا کریں گے۔۔پھر نمبر دو کو ایک آدھا سچ بتایا جائے گا جس کی وہ بھرپور تشہیر کرے گا۔۔ اور جس کے نتیجے میں اس پر نا معلوم لوگ تشدد کریں گے جس سے لوگ مزید کنفیوز ہو کر اسکی طرف مائل ہونا شروع ہونگے۔۔ پھر لالچی طبقے کو بھرپور منافع کے عوض اسکو بیچنے پر مائل کیا جائے گا اور وہ کاروباری پادری نمبر ایک کا سرٹیفیکیٹ لے کر بیچیں گے۔۔ جب وہ نفع بخش کاروبار یا “بھوکوں کو کھانا کھلانے” جیسے غلافوں میں لپیٹ کر مارکیٹ میں آئے گا تو لوگوں میں شک کا رجحان ختم ہونے لگے گا۔۔ پھر پادری نمبر دو کے گرد جمع ہونے والے اس کی مخالفت کریں گے اور لوگ اس کی اصل معلومات ڈھونڈنے میں لگیں گے تو بہت آسانے سے “خفیہ اور پابندی” والی معلومات لوگوں میں پھیلائی جائے گی جو اس پراڈکٹ کو غیرمحسوس طریقے سے “غیر مضر” قرار دے گی اور لوگوں کا یقین اس لئے ہوگا کہ اس پر “اندر کی بات” کا لیبل لگا ہو گا۔۔اور بیچنے والوں کو یہ پتہ ہے کہ یہ قوم اس کو خود چیک نہیں کر سکتی اور یہ ہمارے پاس ہی بھیجیں گے۔۔ تو اس کے جواب میں ایک ہاں اور ایک نہ کرے گا اور حقیقت جب تک سامنے آئے گی ان کا ستر فی صد ہدف پورا ہو چکا ہوگا۔۔ باقی تیس فی صد کو کسی نئے طریقے سے پورا کر لیں گے۔۔

اب اس یقین کی جنگ میں بڑا کردار انسنی فطرت ہے یا وہ تربیت ہے جو اسے کسی خاص یقین پر کاربند رکھتی ہے۔۔ جیسے خدا کا وجود۔۔ جس پر ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا بغیر دلیل کے اور بغیر دیکھے یقین بھی رکھتا ہے اور اسکا دفاع بھی کرتا ہے۔۔ یا کم و بیش وہ اپنے یقین سے ہٹتا نہیں ہے۔۔ اس پر حملہ دو طرح سے ہو سکتا ہے ایک ذہنی اور فکری اور دوسرا اندرونی۔۔باطل کا مرکز ذہن اور فکر پر تو اسی “کنفیوزن تھیوری” سے کافی حد تک کنٹرول حاصل کر چکا مگر اندرونی رستہ کی کھوج میں لگا رہا۔۔اوراسمیں 1860 میں اشارہ اور 1950 میں کافی بڑا سراغ ڈی این اے کی شکل میں پایا۔۔ مزید گہرائی آپ کو بور کرے گی مگر سطحی بات یہ ہے کہ یہ ہر انسان کی ” ریسیپی” ہے کہ اس میں کیا کیا عادات، اطوار، جذبات اور کمزوریاں یا بیماریاں ہیں یا ہو سکتی ہیں۔۔اس راز کو پانے کے بعد انہیں ایک پکی پکائی ترکیب مل گئی جس سے ہر انسان کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔۔ اور کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔۔مائکروسافٹ اور جان ہاپکنس اس پراجیکٹ کے فاونڈر سمجھے جاتے ہیں اور اس پر مائکروسافٹ اپنی ریسرچ اس حد تک آگے لے جا چکا ہے کہ اس کے تجربات مختلف ویکسین کے ذریعے انسانی ڈی این اے کو پروگرام کرنے کیلئے داخل کر چکا ہے۔۔ اور اس کے کم و بیش اثرات ہماری “قطرے” پینے والی نسل کی بڑھتی عمر کے ساتھ ہمیں نظر آرہے ہیں۔۔ یہاں تک کہ بھارت نے بھی موصوف کو دی جانے والی کرسی چپکے سے گھسیٹ لی۔۔ مگر آج ویکسین کو زندگی موت کا مسئلہ بنا دیا گیا۔۔ اس کی کنفرمیشن کیلئے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا۔۔ایک حیرت انگیز بیماری نے “حملہ” کیا۔۔ اس کو پرکھنے کے لئے جو ٹیسٹ یا ڈیوائس استعمال ہو رہی ہیں وہ عام درجہ حرارت اورمدافعتی نظام کا پتہ لگانے کیلئے ہیں۔۔ اچانک دنیا سے ایڈز، ہیپاٹائٹس، کینسر، ہارٹ اور سب سے بڑھ کر “پولیو” جیسا بڑا خطرہ غائب ہو گیا۔۔ سب کو ایک ہی چیز دکھائی جا رہی ہے اور سب وہی سوچ رہے ہیں جو باطل کا مر کز چاہ رہا ہے۔۔ سوشل ڈسٹنسنگ سے انسان کو ٹریس کرنے کی اہمیت دماغوں میں انڈیلی جا چکی۔۔کہ کون کب کب کہاں کہا گیا یا جاتا ہے۔۔۔بڑے بڑے فنڈز کی شکل میں “ڈیجیٹل اکانومی” کی اہمیت بتائی جا رہی ہے جس کا نفاذ کرنا ہے۔۔اور لاک ڈاون سے معیشت کو تباہ کر کے اس کا نفاذ آسان ہے۔۔

یہ تو تھی حملے کی حکمت عملی۔۔اگلے آرٹیکل میں انشاءاللّہ بچاؤ کے واحد رستے پر بات کریں گے۔۔

خوف اور بھوک

اگلا سنگِ میل”گلوبل گورننس” ہے جس کے معنی بہت آسان ہیں۔۔خدائی کا دعویٰ

تو اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے بیت ضروری ہے خوف اور بھوک۔۔ خوف تو مسلط ہو گیا ہے۔۔ اور بھوک عنقریب مسلط ہونے کو ہے۔۔ مجھے لاک ڈاون اور کرونا سے زیادہ اس کے بعد کے حالات پر خوف ہے۔۔ جیسا کہ میرے آقا صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے کہ دجال کے ایک ہاتھ میں آگ اور ایک میں پانی ہوگا۔۔ بظاہر جو آگ ہوگی وہ درحقیقت پانی ہوگا اور بظاہر پانی درحقیقت آگ۔۔ اور میرے “گاربیج زدہ” ذہن میں کرونا بطور آگ اور ویکسین بطور پانی آیا۔۔
تو اس کیلئے بہت ضروری ہے انارکی۔۔ اقتدار کے بھوکوں کو انارکی سے ڈرایا گیا۔۔ عوام کو بھوک اور مرض سے ڈرایا گیا۔۔ اور جو مزاحمت کر سکتے ہیں ان کو پارٹنر بنایا گیا۔۔ اور جب انسان کو روٹی اور جان کے لالے پڑتے ہیں تو بڑے سے بڑا تعلیم یافتہ بھی کسی ایسی ان دیکھی طاقت کی طرف دیکھتا ہے جو اس کی جان اور مال بچا لے۔۔ ایسے میں غیر تعلیم یافتہ مشکل ہدف جبکہ تعلیم یافتہ آسان ہدف ہوتا ہے۔۔ کیونکہ اس کا انحصار اور ایمان مادی طاقتوں پر بن چکا ہوتا ہے۔۔ جیسے فیس بک کے بغیر مارکٹنگ نہیں ہو سکتی۔۔ گوگل کے بغیر کاروبار نہیں ہو سکتا اور میڈیا جو دکھاتا ہے وہی اصل تحقیق ہے۔۔۔

اب جب دنیا اس جال میں آچکی۔۔ اب باطل اپنی انگلی کٹوا کر مظلومیت کا رونا ڈالے گا۔۔ ذرا سوچیں اگر لاک ڈاون کے بعد معیشت کی بربادی کو ذمہ دار ٹہرا کر بنکوں کا دنیا کی نقدی اور سونے کو ہڑپ کرنا کتنا آسان ہے۔۔ اور جب آپ احتجاج کرو اور آپکے ہاتھ میں ایک کریڈٹ کارڈ پکڑا دیا جائے کہ اس میں تمہارے پیسے ہیں جہاں خرچ کرنا ہو بے فکر ہو کر کرو۔۔۔ لیجئے۔۔ آپ بن گئے رعایا۔۔ ان کی جو گلوبل گورننس چاہتے ہیں۔۔اب آپ کہاں، کیا اور کتنا خرچ کرتے ہو اور کتنا ٹیکس دیتے ہو۔۔ سب اس نظام کے تابع ہو جائے گا۔۔ پھر “گڈ کاپ بیڈ کاپ” شروع ہوگا جیسا آپ ابھی ٹرمپ اور ڈبلیو ایچ او میں دیکھ رہے ہیں۔۔ انسان کو کتے کی طرح ایک چپ کا پٹہ ڈالنے کی تیاری مکمل ہے۔۔ ویکسین تیار ہے۔۔ کرپٹو کرنسی اور پلاسٹک منی تقریباً نافذ العمل ہے۔۔ بس اب ویکسین سے ڈی این اے سے ایمان ختم کرنا ہے۔۔ اور یہ بھی چند دنوں میں سامنے آجائے گا۔۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے طریقہ کار کو اس قوم پر کیوں نہیں آزمایا گیا جن کے ہاتھوں کچھ دنوں پہلے ہی ذلالت کی کیچڑ چاٹی گئی تو میرے گمان کے مطابق انہوں نے کوئی دروازہ کچا نہیں چھوڑا۔۔۔نہ فاسٹ فوڈ۔۔ نہ دوا۔۔ سوشل میڈیا۔۔ نہ ٹیکنالوجی کے نام پر پھیلایا جانے والا زہر۔۔ اور پھر نمازوں میں اخلاص۔۔ دین کے نفاذ کیلئے مر جانے کا جذبہ۔۔ اور بقول قران کریم کے۔۔” کفار پر سخت ہیں اور آپس میں نرم” اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔۔ اس معاہدے کے بعد امت ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ ہر طرف سے ان کی عظمت، استقامت اور ایمان کی تعریفوں کا چرچا تھا۔۔۔تو باطل کو خوف تھا کہ ان کا وائرس دنیا میں تیزی سے نہ پھیل جائے اس لئے اس کرونا پراجیکٹ کو عجلت میں لانچ کر دیا گیا۔۔ اور اس قدر ہائپ کی گئی کہ اپنی جان اور اپنی روٹی کی فکر سب سے پہلے ہو۔۔عبادت گاہوں کی بندش سے لوگوں کے اس یقین پر چوٹ پڑے کہ اللّٰہ ہر شے پر قادر ہے۔۔ اور پھر جب سب ریت کی دیوار بن جائے گا تو صرف ایک دھکا لگانے کی دیر ہوگی۔۔

جس طرح پچھلے آرٹیکلز میں لکھی ہوئی چیزیں ایک کے بعد ایک۔۔ کچھ کم کچھ زیادہ درجے میں ظاہر ہو ہی گئی ہیں۔۔۔ تو اب دیر نہیں کہ اقوام متحدہ کی “ایمرجنسی” بیٹھک ہو اور اس میں “گن پوائنٹ ویکسین اور گن پوائنٹ اکانومی” کے نفاذ پر کام شروع ہو۔۔۔ کیونکہ ہم میں سے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ پاکستان جیسا ملک جہاں روٹی، تعلیم، صحت، قانون، انصاف کچھ بھی پورا نہیں وہاں “مائکرو چپ” والے شناختی کارڈ کس کام کے۔؟؟ اور اب تک اس سے شہری کو کیا فائدہ پہنچا۔۔

تیار رہیں۔۔۔ بس اب امتحان قریب ہے۔۔

بل گیٹس اتنا اہم کیوں ہے؟ ہنری کسنجر دنیا کو ایک نظام کے تابع کیوں کرنا چاہ رہا ہے۔۔ وینیزویلا میں کیا ہے؟ تیل کی قیمتیں، عرب اسپرنگ، جمہوریت اور فریڈم آف اسپیچ نے کن کن اہداف کو حاصل کر لیا ہے۔۔ دہریت کن راستوں سے مسلمان ممالک میں داخل ہو رہی ہے۔۔ “ملا” اور “مذہبی رجحان” کو کس طرح ناپا جا رہا ہے اور انہیں کس طرح ” نیوٹرالائز” کرنا ہے۔۔ انشاء اللّٰہ اگلے آرٹیکل میں۔۔

تصویر صاف ہے

اب جبکہ بہت سی چیزیں موضوع بحث ہیں اور کئی طرح کی معلومات کا ایک جم غفیر ہے۔ تصویر صاف ہے۔

جیسا کہ اس سلسلے کے پہلے بلاگس میں آپ نے پڑھا تھا ان میں بہت سی باتیں سامنے آگئیں اب نظر ڈالتے ہیں کہ ان چیزوں کے ممکنہ منصوبے کیا ہو سکتے ہیں اور منطقی طور پر جیسا دکھایا جا رہ ہے ویسا ہی ہے؟

اب چونکہ گوگل سے نقل و حرکت پر نظر رکھنے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے تو اس میں ایک منطقی سوال ہے کہ گوگل پر تو ہزاروں فیک آئی ڈیز ہیں اور چین میں تو گوگل کام ہی نہیں کرتا۔۔ دوسرے یہ کہ پاکستان میں 50 فی صد سے زیادہ آبادی اسمارٹ فون استعمال ہی نہیں کرتی اسی طرح کی مثالی کئی ملکوں پر اپلائی کی جا سکتی ہیں ، تو جو سمجھایا جا رہا ہے کیا یہ واقعی اسی مقصد کیلئے ہے؟ جواب ہے “نہیں” کیونکہ یہ مقصد حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ لاک ڈاون کےبعد سب کی نقل و حرکت بدل گئی تو حقیقی معلومات حاصل کیسے ہوگی؟ بہت آسان ہے کہ یہ ان کا پچھلی کئی دہائیوں سے “سکسیسفلی اپلائیڈ” فارمولا ہے۔۔ جس کی مثال تیل والے ملکوں کو دوسرے ملکوں سے ڈرا کر اس کے آس پاس یا اندر اپنی فوجوں کی مستقل قیام گاہ۔۔ موسٹ وانٹڈ “آتنک وادی” کا شوشا چھوڑ کر ڈالر کی نقل و حرکت پر کنٹرول تاکہ دنیا میں اضافی چھپے ہوئے ڈالر سے خریداری کرنے کے بعد وہ ڈالر دوبارہ امریکہ میں نہ آنے پائے۔ اب جب چین سے اصلی ڈالر کے عوض خریداری کرنی پڑ گئی تو پہلے شاید چین پر کامیابی سے الزام لگایا جائے گا اور اس کو سچ ثابت کرنے کیلئے اپنے کچھ بڑوں کو “بلی کا بکرا” بھی بنایا جائے گا۔

اللّٰہ ہمیں وہ فراست عطا کرے جس کے بارے میں آقا صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مومن اللّٰہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اب جبکہ دنیا کو ہیروئین سے زیادہ خطرناک نشہ کی صورت میں سوشل میڈیا پر لگایا گیا ہے کہ نہ اسکے بغیر نیند آتی ہے نہ حلق سے نوالہ اترتا ہے۔۔ ایک گھر میں دس دس لوگوں کی موجودگی میں بھی خاموشی اور کھوئے رہنا مجھے آقا صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم کی وہ بات یاد دلاتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ قرب قیامت میں دور نزدیک ہو جائے گا اور نزدیک دور۔۔ آنکھ سے اور ہر گھر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تو اب بہت آسان ہے کہ اس نشے کے بدلے آپ کے گھر کے اندر تک کی معلومات مانگی جائے تو ہم دینے کیلئے تیار ہیں۔۔

اب پہلے حصے میں ان علاقوں کو خود ساختہ خطرناک قرار دے کر وہاں ویکسین ٹھونسی جائے گی جو کہ “بی ہیوئیر موڈیفیکیشن” کا آغاز ہوگا۔۔ یہ پراجیکٹ نوّے کی دہائی میں امریکی سی آئی اے پر آزمایا جا چکا ہے اور جس کے تحت دس الگ الگ سوچ، عادات اور فطرت رکھنے والوں کو ایک پروگرام کی ہوئی سوچ، عادت اور فطرت پر لایا جا سکتا ہے۔۔ اس تجربے کے منفی اثرات میں سر درد، یادداشت کی کمزوری، اچانک ڈر جانا اور ایک خاص ذریعے سے دئیے گئے احکامات کو من و عن قبول کرنے کے بجائے اس کا الٹ کرنا۔۔۔ اب سوچیں اس بائیو ٹیکنالوجی کی ایجاد سے سب سے زیادہ خطرہ کس کو ہے۔۔ جی ہاں۔۔ مسلمان کو۔۔ جو بنیادی ہدف ہے۔

یہاں سے شروع ہوتی ہے میرے رب کی تدبیر۔۔ اور وہ ہتھیار جس کا کوئی ٹیکنالوجی مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ ہے ذکر کہ کثرت۔۔ اور سب سے افضل تلاوتِ قران۔۔ اور اس ہتھیار کی سب سے خوبصورت بات ہے کہ پڑھنا، سننا، دیکھنا سب کی تاثیر ہے۔۔ اور باطل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ۔۔۔ اسی لئے کانوں میں موسیقی، آنکھوں میں سوشل میڈیا کا زہر اور دماغ میں دین کو متنازع بنانے والی سوچ۔۔ جس کی پہلی قسط ہم دیکھ رہے ہیں۔۔ افسوس یہ ہے کہ موسیقی سن کر تلاوت و نماز میں دل نہ لگنے کو آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔۔ سوشل میڈیا پر میسج فارورڈ کرنے کو ثواب اور مغفرت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔۔ جن چیزوں پر ہمارے ماں باپ کانوں کو ہاتھ لگاتے اور ہمیں مارنا پیٹنا شروع کردیتے ان چیزوں کو “آجکل کا ٹرینڈ” کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کو پیش کرتے ہیں۔۔اور پھر “کرونا” سے پھیلائے ہوئے خوف میں “اسٹیٹس” پر گنگناتی ہوئی دعائیں لگاتے ہیں۔۔۔

ہمارا ایمان سمپسن، سی این این اور بی بی سی پر مضبوط ہو رہا ہے اور یہی انہیں کرنا ہے۔۔آج ان چینلز سے یا گوگل سے خبر آئے کہ کرونا ختم ہو گیا تو دنیا سڑکوں پر آجائے گی اور ہوائی فائرنگ شروع ہوجائے گی۔۔

جبکہ وہ “ہارپ” کے ذریعے زمین کی گردش سے چھیڑ چھاڑ کر کے دنیا میں موسموں کو آگے پیچھے کرنے کے تجربے سے گزر رہے ہیں اور “کلائمیٹ چینج” کو خطرہ قرار دے کر اپنے اس عمل کو قانونی کر رہے ہیں۔۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے سورج کا مشرق سے نکلنا اسی سلسلے کی بری شکل ہے۔۔
یہاں تک کہ وائرس کو ریڈیو فریکوینسی سے دنیا کے ہر حصے تک پہنچانے کی کیس اسٹڈی مکمل ہوگئی ہے جسے بظاہر دنیا میں صحت کی حفاظت کا خول اوڑھا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔

تھوڑی سی سرچنگ سے آپ ان سب کی تفصیل حاصل کر سکتے ہیں۔۔

دجال کا اسٹیج کتنا تیار ہے؟ دجال کو ویلکم کرنے والے اس کیلئے کس قسم کی تیاری چاہتے ہیں؟ کیا چند افراد پر مشتمل ٹیم دنیا پر حکومت کا فریم ورک بنا چکی ہے؟ اس میں آپ کو ٹاپ پوزیشن پر جلدی آنے کیلئے اپنے ایمان کو کس کے سامنے ذبح کرنا ہوتا ہے؟ دنیا کے بڑے برانڈز اور کاروبار میں کوئی مسلمان نام آج تک کیوں نہیں بڑھ پایا۔۔ اور جو تھوڑا بہت بڑھ پایا اس نے کیا قربان کیا۔۔ انشاء اللّٰہ اگلے آرٹیکل میں۔۔

کرونا کے کھیل ۔ کیا صورتحال بدل رہی ہے یا بدلی جا رہی ہے؟

پچھلے آرٹیکل میں ہم نے گوگل پر غور کیا اب وہاں سے نکلتے ہوئے کچھ نقطوں کے سوالات بناتے ہیں۔

فیس بک جس طرح سے ایک ایک اکاونٹ کا خیال رکھتا ہے۔۔آپ کی پرائوسی سیکیورٹی ڈیٹا اور آپکی شناخت۔۔ اتنا تو کسی ملک کی حکومت نہیں رکھتی۔۔ مثلاً پاسورڈ یا فون نمبر بدلنے کو ہی لے لیجئے اتنے سوال جواب اور کنفرمیشنز کہ بظاہر لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ ہماری سیکیورٹی کا خیال فیس بک کو ہے۔ اور وہ بھی مفت میں۔۔ بلکہ اب تو فیس بک کیلئے انٹرنیٹ بھی مفت مل رہا ہے۔۔

اور ہم جاہل بھیڑوں کی طرح اپنی معلومات، رشتے، آنا جانا، سفر، کلوز فرینڈ اور دیگر یہاں تک کہ کاروبار، بنک، اسٹاف اور بہت کچھ سچ سچ لکھتے ہیں۔ اتنے بڑے نظام میں سرمایہ کاری، قانونی تحفظ اور چند سالوں میں دنیا کا امیر ترین آدمی۔۔ کیسے؟ کیوں؟ اور اس قدر تفصیلی معلومات کا مقصد؟

اشتہار بازی تو ٹی وی پر بھی کروڑوں کی ہوتی ہے مگر دیکھنے والے کون ہیں کیا کرتے ہیں اس سے کسی کو دلچسپی نہیں۔۔ اب دوبارہ ویکسین کی طرف آتے ہیں۔۔ تو پچھلے آرٹیکل میں لکھ چکا ہوں کہ ویکسین کن کن کو دینا ہے۔۔ اور اس ڈیٹا سے آبا و اجداد تک کی آسان معلومات۔۔ پھر گوگل لوکیشن۔۔ جس پر ڈرون بھی آپریٹ ہوتے ہیں۔۔ برسبیلِ تذکرہ گوگل کی سیٹیلائٹ امیج اور نیویگیشن بھی مفت ہی ہے۔۔ اس پر تو کوئی اشتہار بازی بھی نہیں۔۔ پھر کون بیوقوف سرمایہ کار ہے جو بے تحاشا دولت گھسیڑے جا رہا ہے؟.. تو ویکسین کو مطلوبہ کیٹگری تک پہنچانے، دجال سے بغاوت کرنے والوں کو نشانہ لے کر مارنے اور ڈھونڈنے کیلئے اسٹیج تیار ہے۔۔

اس کا تجربہ کرنے کیلئے ایک چھوٹا سا تجربہ اپنے کمپیوٹر پر کر کے دیکھیں۔۔ گوگل میپ کھولیں، چائنا ڈھونڈیں اور پہلے سیٹیلائٹ ویو دیکھیں اور پھر میپ ویو دیکھیں اور جو فرق نظر آئے وہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ چائنا نے اپنی زمین کو کیسے محفوظ بنایا ہے۔

اب ہر کسی کو وہی نظر آئے گا جو وہ دکھانا چاہتے ہیں۔۔ اگر وہ آپ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ کرونا بہت خطرناک ہے تو سرچ انجن سب سے اوپر انہی کو رکھ سکتا ہے اور دیگر پیچھے یا غائب ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی بہت با اثر عالم کو بدنا م کرنا ہو تو فیس بک ہر اس شخص کی ٹائم لائن پر صرف ایک منٹ کچھ بھی پوسٹ کرسکتاہے جس کے فالورز کم از کم 100000 ہوں۔ اس طرح یہ پیغام کورونا وائرس کے پھیلاو سے ہزار گنا تیزی سے کم از کم ایک کروڑ لوگوں تک پہنچے گا اور آپ کو ہر ویب سائٹ پر گوگل ایڈ کے باکس میں نظر آئے گا۔

امریکہ ایک لاکھ امریکنوں کی موت کیلئے اپنے شہریوں کو کیوں تیار کر رہا ہے؟ کیا امریکہ میں بہت بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہونگی؟ اور اگر خدا نخواستہ اتنے لوگ مرتے ہیں تو جس امریکہ میں دو ٹاور گرنے پر پورا ملک بچوں سمیت اجاڑ دیا گیا یہ کہہ کر کہ امریکنوں کو خطرہ ہے، پھر دنیا کو ویکسین پلانے، کیش ختم کرنے، افراد کی ٹریکنگ اور آبزرویشن کروانے میں “پتھروں کے دور میں پہنچانے” جیسی ایک دھمکی ہی کافی ہوگی؟ کیا خاموشی اور حکمت سے اسلام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچاتی تبلیغی جماعت ان کیلئے مستقبل کی رکاوٹ ہے؟ کیا ٹرمپ کو بھی بہت سیریس کرونا لگنے والا ہے؟ کیا سفری پابندیاں ویکسینیشن اور ٹریکنگ کیلئے مجبور کر سکتی ہیں؟ کیا لاک ڈاون کی وجہ سے ہونے والے دیوالیہ بنکوں کے کسٹمر ڈیجیٹل کیش کو با آسانی تسلیم کر لیں گے؟ کیا سبزیوں اور پھلوں کے بیج کمپنیوں نے پیٹنٹ کروا لئے ہیں؟ کلائمیٹ چینج اور ہارپ پروجیکٹ پہلے تجربے کے قریب ہے؟ کیا بل گیٹس “بڑوں” کے ہاتھوں اپنی لالچ کی وجہ سے بیوقوف بن گیا؟

اور سب سے بڑی بات کہ سورہ کہف کی تفسیرسے ہم نے کیا سیکھا؟ اور کیا ویکسین نہ پینے والوں کے جسم میں دنیا کی بڑی فوڈ چینز سے وائرس گھسیڑا جا سکتا ہے تمام چیزیں کتابوں، خبروں اور واقعات پر بہت سے لوگوں کے خدشات اور منطقی دلائل سے جمع کی ہیں نہ کی پیشن گوئی یا دعویٰ

آگےانشاء اللّٰہ اگلے آرٹیکل میں۔

اللّٰہ ہمارے علماء اور بڑوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ہمیں اپنی طرف رجوع اور قران و حدیث سے سیکھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

کرونا کے سانپ کی دُم

پچھلے آرٹیکل کے بعد آنے والے کمنٹس میں کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ میں علمائے کرام کی رائے کے برخلاف ہوں تو میں تصحیح کر دوں کہ میرا نقطہ نظر یہ نہیں کہ کرونا کوئی حقیقت نہیں یا کہ جو احتیاطی تدابیر بتائی جا رہی ہیں وہ نہ کی جائیں۔ اب جب کہ ہتھیار چلایا جا چکا ہے تو بچاؤ کی تدبیر نہ کرنا جہالت ہے۔

پچھلے آرٹیکل میں نقطہ وار کچھ باتیں تھیں اور اس دوران “کھدائی” پر کچھ اور چیزیں سامنے آئیں جو کہ شامل کر دوں گا۔

کرونا کا خطرہ، مشکوک اور ٹارگٹڈ پھیلاؤ اور اس خوف کے ڈرامے میں “صف اول کی کاسٹ” سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر نظر ڈالتے ہیں۔

1۔ اتفاق سے میں چائنا سے 26 دسمبر کو واپس آیا تو وہاں سب لوگ اپنے گھروں کو واپس اپنی سالانہ چھٹیاں گزارنے جا رہے تھے۔ اور اس دوران ان کی فیکٹریاں اور دفاتر کم از کم 15 سے 20 دن کیلئے بند ہوتے ہیں۔ یہاں آنے کے کچھ دن بعد خبر آئی کہ ووہان میں کوئی وائرس برامد ہوا۔ چین دنیا میں مشہور سوشل میڈیا پر اپنے لوگوں کو شروع سے ہی نہیں آنے دیا بلکہ اپنا کنٹرولڈ سوشل میڈیا اپنے لوگوں کو مہیا کیا اور غالباً اسی خطرے کے پیشِ نظر انگریزی سے دور بھی رکھا۔ اور وائرس کے آنے کے تین دن میں امریکن میڈیا کی ہیڈلائینز اور ان کے “کونٹینٹ” کا 50 فی صد سے زیادہ اسی پر مشتمل تھا۔۔

زیادہ حیرانگی مجھے تب ہوئی جب ڈبلیو ایچ او کودا اور 70 سے زیادہ آرٹیکل پہلے پیج پر نظر آئے۔۔ کچھ آرٹیکل پر نظر ڈالی تو پتا چلا کہ خود کو دنیا کا مسیحا اور خیر خواہ “پروجیکٹ” کرتا یہ ادارہ کہہ رہا تھا کہ یہ وہی چیز ہے جس کی ہم نے پیش گوئی کی تھی

پیش گوئی ڈھونڈنے پر پتہ چلا کہ وہ مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس نے چار سال پہلے اور حیرت انگیز طور پر درست اعداد و شمار کے ساتھ کی تھی۔ اور دنیا کو اس میں سرمایہ کرنے کی دعوت دینے کے ساتھ لوگوں کو اس سے بچانے کیلئے ٹیکنالوجی یعنی کہ ان کے اسمارٹ فون کے ذریعے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے فوائد بتا رہے تھے۔

اب مجھ جیسے بیوقوف لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ جب آپ اس کی پیش گوئی کر رہے ہیں اور یہ اتنا بڑا خطرہ ہے تو اس وبا کے پھیل جانے کے بعد اس کو قابو کرنے کے طریقے پر بات کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کی “ویکسین” بنانے والی کمپنی جس بنا پر یہ پیش گوئی کر رہی ہے اس بنا پر اس کو روکنے پر کام کیا جائے۔

ویکسین کی “کھدائی” کرنے پر حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ ایجنڈا یہ ہے کہ پیدائش سے 15 سال تک کے بچوں کو جبراً کسی نہ کسی ویکسین “گھسیڑنے” کا پابند بنایا جائے اور اس کیلئے ویکسین کے ساتھ کچھ “فنڈز” بھی اس حکومت کی وفاداری کے عوض فراہم کئے جائیں۔ یاد رہے پولیو ویکسین بل گیٹس نے اسی پالیسی کے تحت بھیجی اور آپ اس جبری ویکسینیشن کے واقعات جانتے بھی ہیں کہ اگر آپ بھوک سے مر رہے ہیں تو آپ کو آٹا دینے پولیس نہیں آئے گی مگر ویکسین نہ لینے پر آپ کی ایف آئی آر کٹتی ہے۔ یاد رہے یہ وہی بل گیٹس ہیں جنہوں نے مائکرو سافٹ پاکستان میں نہ لانے کی وجہ ہماری کرپٹ حکومت بتائی تھی اور ویکسین کے فنڈ آنکھیں بند کر کے دے دئیے۔

اب بل گیٹس کس کیلئے کام کرتے ہیں اس پر کسی اور آرٹیکل میں بات کریں گے مگر ان صاحب کو ہیرو بنانے میں پہلا کردار گوگل ادا کرتا نظر آتا ہے جس کے ہاتھ میں اس وقت یہ طاقت ہے کہ یہ کسی بھی ویب سائٹ کو “رسکی” بتا کر بند اور بدنام کر سکتا ہے اور جس ایپلیکیشن کو اجازت نہ دے وہ اسمارٹ فون پر نہیں چل سکتیں اس پر غضب یہ کہ ہر صارف کو اپنی اسکرین پر وہی نظر آئے گا جو گوگل اسے دکھانا چاہتا ہے۔ مثلاً مجھے بہت سی چیزوں تک پہنچنے کیلئے کمپیوٹر کی تاریخ سے چھیڑ چھاڑ اور مختلف پرانے براوزر استعمال کرنے پڑے۔

اب اینڈرائڈ کا اسمارٹ فون، یوٹیوب کی ویڈیوز ( جس پر گوگل ایک مخصوص ناظرین / فالورز بنانے کے بعد آپ کو باقاعدہ ادائگی کرتا ہے بظاہر یہ ایک سیدھا سادہ ایڈورٹائزنگ کا کاروبار ہے مگر کیا آپ کے دن رات محنت کر کے بنائے گئے فینز کا ڈیٹا آپ کے پاس ہوتا ہے؟ کیا آپ براہ راست سب کو اپنا کوئی پیغام ذاتی طور پر بھیج سکتے ہیں؟ آپ کے کونٹینٹ کے بیچ میں آجانے والے اشتہار کا مضمون اور کیٹیگری آپ طے کرتے ہیں؟ آپ کے فینز/فالوورز کا موبائل نمبر تک گوگل کے پاس ہوتا ہے۔ اب تھوڑا سر ٹکا کر سوچیں۔۔ کہ اس صورتحال میں۔۔۔ کیا گوگل آپ کے نام سے ان سب کو کوئی پیغام نہیں بھیج سکتا؟ کیا آپ کے اسلامی کونٹینٹ کے بیچ میں وہ کسی دہریئے کی غیر اسلامی منطق نہیں دکھا سکتا؟ کیا وہ ایک منٹ میں آپ کی ویڈیو مٹا نہیں سکتا؟ وہ کر سکتا ہے اور اسکا اصل کام یہی ہے جو وقت آنے پر ہوگا۔۔۔ جیسے کرونا میں گوگل 20 کروڑ لوگوں کو بیک وقت ڈراتا ہے اور وہ بھی آپ کے بلائے ہوئے لوگوں کو اور ان کی پسندیدہ طرز پر۔

اب آئیے دوبارہ ویکسین کی طرف۔ جہاں بہت سے منچلوں نے جھوٹی سچی چیزیں بنا کر اس پر ڈالیں وہاں بہت سے سنجیدہ ڈاکٹرز اور اطبا نے بھی معلومات شئیر کیں مگر کیونکہ گوگل نہیں چاہتا تھا تو بظاہر ان کی ویڈیوز پر لاکھوں ویوز تو نظر آئے مگر حقیقتاً وہ چند سو لوگوں تک بھی نہیں پہنچیں۔۔ ویڈیو ڈالنے والا خوش تو ہوا مگر اسے لگا کہ شاید کسی نے اہم نہیں سمجھا۔۔۔ پھر نیچے آنے والے کمنٹس میں اس علاج اور معلومات کو جھٹلانے والے کمنٹس صرف ایک لمحے میں ڈالے جا سکتے ہیں جنہیں دیکھ کر اگر کوئی یقین کرنے والا بھی ہوگا تو نہیں کرے گا۔۔ کیونکہ صحیح صرف وہی ہوگا جو گوگل دکھانا چاہے گا اور وہ منٹوں میں ہر یوزر تک پہنچے گا بھی اور “اسکِپ ایڈ” بھی نہیں ہوگا۔ کیونکہ اب تک اعداد و شمار اسمارٹ فون تک گوگل کے ” تعاون” سے ہی پہنچ رہی ہیں۔

یاد رہے چاہے آپ کا فون انٹرنیٹ سے کنیکٹ نہ بھی ہو پھر بھی آپ کی نقل و حرکت، کالز، میسج، پسند نا پسند یہاں تک کہ اگر آپ ان معلومات کی بنا پر گرے لسٹ میں آئے تو آپ کی بات چیت اور تصاویر بھی نادیدہ طور پر ایک مخصوص سرور پر جمع ہوجاتی ہیں جیسے ہی آپ کنیکٹ ہوتے ہیں۔۔۔ معصوم صارف یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کرتا اسمارٹ فون میں موجود لاکھوں روپے مالیت سے بنی ہوئی ایڈوانس ایپلیکیشنز اور سروسز مفت میں کیوں مل رہی ہیں؟ اور ہر چار دن بعد ایسی کیا ڈیولپمنٹ ہوتی ہے جو “اپڈیٹ” ہوتی رہتی ہیں؟ بس ہم اپڈیٹ نہیں کرتے اپنے ہاتھ سے اپنا ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ کبھی سیکیورٹی، کبھی فیچرز، کبھی تھیمز۔۔۔ وہ بھی مفت میں۔۔

اب چاہے دوا ہو، چاہے علاج، چاہے رسک ہو چاہے بچاؤ۔۔ سامنے وہی آئے گا جو وہ سامنے لانا چاہیں گے۔۔ یہاں تک کہ اسلام بھی۔۔

فیس بک کی مفت سروسز پر اربوں روپے کیسے لگے؟ کیا امریکہ میں پھیلنے والا وائرس “بڑوں” کا اپنے ہتھیار کو استعمال کے بعد ناکارہ بنانے جیسا ہے؟ کیا دنیا اسی طرح وبا کے خطرے میں اور ویکسین کی محتاج رہے گی؟ کیا اس “نرم دھمکی” سے بات قابو نہ آئی تو زیادہ خطرناک وبا پھیل سکتی ہے؟ جب امریکہ بہادر سپر پاور اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں سب کا باپ ہے تو دنیا کے بہترین دماغوں کو بھاری معاوضے پر قبول کیوں کرتا ہے؟ کیا دجال اپنے ظہور سے پہلے دنیا کو گھٹنوں پر بٹھانا چاہتا ہے تاکہ مزاحمت نہ ہو اور لوگ اس کو آسانی سے خدا بھی مان لیں؟ کیا جان ہاپکنس، ڈبلیو ایچ او، یو ایس ایڈ اور یونیسیف جیسے اداروں کے علاوہ سب بیوقوف ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیوں؟

یہ سب انشااللہ اگلی تحریر میں۔۔

کرونا – بڑے کھیل کی پہلی چال

کرونا کی عجیب حرکتیں میں کچھ سوال لکھے تھے اب اس پزل کے کچھ پرزے ملے جو کہ ذیل ہیں.

کرونا میں موت کا تناسب فلو سے بھی کئی گنا کم ہے مگر ویکسین بنانے کی محنت (جوکہ کچھ ذرائع کے مطابق تین سال پہلے بنا لی گئی تھی) پوری تندہی سے جاری ہے.

ویکسین بنے گی تو اس کا انسانی جسم میں جانا کتنا ضروری ہے اس کیلئے بہت زیادہ خوف اور بھوک کا ہونا ضروری ہے جو کہ آنے والے وقتوں میں تیار ہے.

بھوک اور معاشی محتاجگی کی بھیانک شکل بنا کر اب سارے ممالک اپنے لوگوں کع گن پوائنٹ پر پلائیں گے.

یہ جاننے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے کہ یہ ویکسین اس مرض کیلئے ہے بھی یا نہیں کیونکہ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یہ اسی مرض کیلئے ہے.

ڈبلیو ایچ او کو صادق اور امین بنانے کیلئے پہلے خوف، پھر اپنے ہاتھوں بھیلائے ہوئے غلط سلط علاج کے طریقے اور پھر اسی ادارے کے طرف سے ایک مسیحا کی طرح اس کی تردید. حیرت انگیز طور پر انٹرنیٹ صارفین کو گھسیٹ گھسیٹ کر اسکی ویب سائٹ پر ہانکا جانا اور پل پل کی معلومات اور کرونا کی منٹوں کے حساب سے اعداد و شمار کا ہونا اسے مسیحا بنانے کیلئے بہت ہے.

ڈبلیو ایچ او میں افریقہ میں‌کولیرا نامی بیماری کے بھیلانے پر تین دفعہ کے ملزم کا ایمرجنسی ریسپانس ڈائریکٹر ہونا اس کا سچ جاننے کیلئے بہت ہے.

امریکہ کا قانون جو کہ ویکسین بنانے والی فارما کمپنیوں کو ہر قسم کی قانونی چارہ جوئی سے استثنا دیتا ہے جو کہ کچھ سال پہلے ہی نافذ ہوا. بل گیٹس بھی کچھ سال پہلے ہی ویکسین بنانے کی “انسانی خدمت” کے کاروبار میں اربوں ڈالر لگا کر داخل ہوا.

ویکسین کی اصلیت کا مطالعہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ ویکسین روایتی دوا نہیں جو کہ آپکے جسم میں جا کر مطلوبہ مقاصد حاصل کر کے کچھ دنوں بعد خارج ہو جائے، بلکہ یہ آپ کے جسم میں ایک جاسوس کی طرح گھر بناتی ہے اور پھر زندگی بھر وہ کام کر سکتی ہے جو کا کوئی جاسوس دشمن ملک میں گھر بنانے کے بعد اپنے ملک کےلئے کرتا ریتا ہے. (تفصیل اگلے حصے میں بتاوں گا.)
اب شاید :

ہوائی سفر کیلئے ائرپورٹ پر جسم میں ویکسین داغا جائے گا.
آپ نے ویکسین لی ہے یا نہیں اس معلومات کو آپ کے اسمارٹ فون سے نتھی کیا جائے گا. (چین پہلے حصے میں کرونا ٹیسٹ سے اس تجربے کا آغاز کر چکا ہے)
ویکسین نہ لینے والے کا معاشرتی بائیکاٹ اور انسانیت کیلئے خطرہ قرار دیا جائے گا اور پوری دنیا ایسا اس لئے کرے گی کہ ایک خطرناک خوف اور لاک ڈاون کے بعد آنے والے بد ترین معاشی حالات سے سب ڈر چکے ہوں گے.
آج لوگ ہر کسی کو چھونے سے پرہیز کر رہے ہیں، کچھ ماہ بعد بغیر ویکسینیشن والا انسان اچھوت ہو جائے گا اور پھر شروع ہوگا اکلا قدم

اگلے قدم پر ان شا اللہ اگلی تحریر میں لکھوں گا. جس میں

گوگل، فیس بک اور مائکروسوفٹ کا کردار – سیٹیلائٹ اور دیگر الیکٹرومیگنٹ کا استعمال – نادیدہ جبری سوچ اور اسکا یقین بھوک کا دائرہ اور خواہشِ بقا بطور آلہِ کار اور اس کے علاوہ معیشت کی مرکزیت اور کیش لیس اکانومی کے اہداف شامل ہیں.

Fog of my thoughts - | - میرے خیالات کی دُھند

Your comments are valuable. Subscribe by email or Message me directly from blog - | -

آپ کی آراء قیمتی ہیں۔ ای میل سے سبسکرائب کریں یا بلاگ سے براہ راست میسج کریں -.