دو ارب لاشیں

آج کل سوشل میڈیا پر ہر پندرہ دن میں اسلام اور اسلامی اقدار کے حوالے سے کوئی نہ کوئی گند اچھالا جاتا رہتا ہے۔ اور اس کے جواب میں، ہر مسلمان کی بورڈز اور اسمارٹ فون پکڑتا ہے اور نام نہاد جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ ٹویٹر اور فیس بک کے ٹرینڈز، میمز، تاریخ کی تصاویر، قرآنی آیات، دھمکی آمیز اقتباسات وغیرہ۔ پھر یہ اجتماعی یا انفرادی طور پر باون اسلامی ” مُردوں ” تک جاتا ہے اور وہ سفیروں، نمائندوں کو بلا کر “اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں” اور میڈیا پر “مذمت آمیز بیانات” دیتے ہیں۔ .

کیا یہ ایک احمقانہ مذاق کی طرح ہے یا کچھ اور؟ پھر ہر کونے سے قیاس آرائیاں ہوتی ہیں کہ وہ اس قسم کی سرگرمیاں کرکے ہمارے ردعمل کو جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بکواس، انہیں ہماری توانائی کو جانچنے کی ضرورت نہیں، وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں کس قسم کی توانائی رہ گئی ہے۔ ہم دنیا کو اپنی تاریخ بتاتے ہوئے خوش ہیں۔ جو کچھ بھی ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا ہم اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

تھے تو آباء وہ تھارے ہي’ مگر تم کيا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو!

کون ہے تارک آئين رسول مختار؟
مصلحت وقت کي ہے کس کے عمل کا معيار؟
کس کي آنکھوں ميں سمايا ہے شعار اغيار؟
ہوگئي کس کي نگہ طرز سلف سے بيزار؟
قلب ميں سوز نہيں’ روح ميں احساس نہيں
کچھ بھي پيغام محمد کا تمھيں پاس نہيں

واعظ قوم کي وہ پختہ خيالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گيا ، تلقين غزالی نہ رہی

ایک وقت تھا جب مومن کی آنکھ تلوار کی طرح تھی اور اسے صرف ایک سمت کو گھورنا ہوتا تھا اور فوجیں تک پلٹ جاتی تھیں۔ اب میری بات کو معاف کر یں، ہم سب صرف بھونک رہے ہیں کسی کو پرواہ نہیں۔ لوگ اپنی انفرادی حیثیت میں رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے، تھپڑ مارنے یا جھگڑا کرنے یا مجسموں یا جھنڈوں کو جلانے میں خوش ہیں کہ بس حق ادا ہو گیا۔ ذرا تصور کریں کہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عزت کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں۔ تحفظ کا عام معنی میں مفہوم، حملے کے بعد ردعمل ظاہر کرنا نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ حملہ ہونے سے پہلے ہی اقدامات کر کے اسے روکنا ہے۔ ہمارے مذہب اور اس مذہب کے ستون کی توہین کرنے کی جرأت کوئی کیسے کر سکتا ہے جس کے لیے ہر مسلمان اپنی جان تک قربان کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

میں اسے اپنے باقاعدہ مضمون کے طور پر نہیں لکھنا چاہتا، صرف طوالت سے بچنے کے لیے۔ وہ آنکھیں جو شکوہ اور جواب شکوہ جیسی شاعری کے بعد بھی نہیں کھلیں، وہ خون جو صحابہ اور پھر عثمانیوں کی تاریخ جان کر بھی ٹھنڈا ہے۔ وہ رویہ جو کئی ادیبوں، صحافیوں اور سیاست دانوں کی طرف سے توہین کے بعد بھی دفاعی ہے، سفارت کاری کے لنگڑے دلائل پیدا کر رہا ہے۔ مجھ جیسے احمق کی چند سطروں کے بعد کیا تبدیلی آئے گی۔ لیکن درحقیقت، میں صرف اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ہماری نسل کو اسلام کی طرف سے چلائی جانے والی حکومت، نظامِ حکومت اور طرزِ حکمرانی کے بارے میں بھی کوئی اندازہ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی، ویڈیو گیمز میں جنگیں لڑنا، کمپیوٹر میں سلطنتیں بنانا اور جنسی تعلقات کی تلاش سب سے بڑی سرگرمی ہے۔ ہم نے اپنی نسلوں میں بزدلی پیدا کر دی ہے اور آنے والے وقت میں اس گناہ اور جرم کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہم واقعی پانی پر جھاگ کی نسل ہیں جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔ ہمارے پاس متحد آواز نہیں ہے، ہر کوئی لیڈر بننا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے اپنی “ایک انچ کی سلطنت” بنائی ہے تاکہ وہ ایک بادشاہ اور لیڈر کا پروٹوکول لے سکے چاہے اس کے پاس صرف سینکڑوں میں “رعایا” ہوں۔ .

جب تک ہم باون مجسم ممالک میں یکساں اقدامات کرنے پر متفق نہیں ہوتے، جب تک ہم ایک اور متحد آواز نہیں رکھتے، جب تک ہم اپنی نسلوں کا نہیں سوچیں گے اور مغرب کی اندھا دھند اطاعت کرنا نہیں چھوڑ یں گے، جب تک ہم اسلام کو نجات کا واحد راستہ نہیں سمجھیں گے، اور جب تک ہم اپنے مذہب اور پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے معاملات میں غلامانہ شائستگی سے باز نہیں آتے، تب تک مختلف ممالک میں کانفرنسیں کرنا، احتجاج ریکارڈ کرنا، مذمت کرنا، اجتماعات کرنا اور بے شمار پیسے خرچ کرنا اور ان کی طرف سے معافی کے چند الفاظ پر خاموش رہنا بے سود ہے۔ بیکار ہیں

دوسرے ہماری عزت نہیں کر رہے کیونکہ ہم اپنی بھی عزت نہیں کر رہے۔ ہم اسلام پر عمل نہیں کر رہے اور پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطاعت نہیں کر رہے تو پھر ہم دوسروں سے احترام کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہونے پر بھی خوش نہیں ہیں اور ہم اپنے مذہب پر بھی عمل نہیں کر رہے، ردعمل بھی نہیں کر رہے۔

اللّٰہ ہم سب کو صحیح اور اپنے پسندیدہ راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وضاحت: لکھا جانے والا مواد اکثریت کے مشاہدے پر ہے۔ کلی طور پر حرف آخر نہیں۔

رویّہ، شناخت اور ثقافت

ایک کہانی ہم سب نے سنی تھی کہ ٹوٹی ہوئی بوتل سے ایک جن نکلا، ایک بہت غریب آدمی کے پاس، جس کی ماں نابینا تھی، اور اس کے بچے بھی نہیں تھے۔ جن نے اس سے ایک خواہش کہنے کو کہا تاکہ وہ اسے پورا کر سکے، صرف ایک خواہش۔ تو وہ کیا مانگے؟ اور سوال انتہائی حیرت انگیز تھا۔ اس نے کہا “میں چاہتا ہوں کہ میری ماں میرے بچوں کو سونے کے جھولے میں کھیلتے ہوئے دیکھے۔” یہ میری زندگی کا ایک سبق تھا۔ اسے کہتے ہیں عقلمندانہ گفتگو۔ کوئی تاخیر نہیں، کوئی اضافی “چورن” نہیں ہے اور ہر چیز کے ساتھ بنڈل ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔

آج، چاہے ہم کسی بحث، نوکری، کاروبار یا کسی سماجی چیز میں شامل ہوں، ہم بہت سی چیزوں کے ساتھ گھل مل گئے ہیں جو ہمیں الجھا دیتے ہیں یا ہمیں سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے اسے دیکھا، یہ اس مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں سے ہم نے دوسروں کو دیکھنا شروع کیا تھا اور اپنے آپ کو یہ فیصلہ کر کے متاثر کیا تھا کہ یہ بہترین ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ثقافت کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ کیا بہتر ہے۔ نہیں، اصل میں نہیں، پھر کیا؟ آئیے اسے مزید دریافت کریں۔

سفر میرے کاروبار کا حصہ ہے، مجھے عام طور پر وہاں رہنے والے، کاروبار کرنے یا نوکری کرنے والے پاکستانیوں سے ملنا پسند ہے۔ میں نے اکثر دیکھا کہ ہم جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر وہاں کے مقامی لوگوں کے لہجے اور بات کرنے کے انداز کو نقل کرنا پسند کرتے ہیں۔ اگر ہم کسی عرب سے بات کر رہے ہیں تو ہم لہجے کو کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں چاہے ہم انگریزی میں بات کر رہے ہوں۔ آپ یہاں ہمارے ملک میں تجربہ کر سکتے ہیں۔ اگر ہم پشتون لوگوں کے ساتھ بات کر رہے ہیں تو ہم اپنا لہجہ “آپ کی گاڑی غلط جگہ پر کھڑی ہے” سے بدل کر “تمھارا گاڑی گلت جگا پر کھڑا ہے” میں تبدیل کر دیتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ زبان کے دوسرے تغیرات کی طرح۔ مضحکہ خیز، کہ میں خود ذاتی طور پر بعض دفعہ دبئی میں جنوبی ہندوستانیوں اور بہار کے لوگوں کے ساتھ اور چین میں چینیوں کے ساتھ کرتا ہوں۔

دوسرا، ہم اپنے ثقافتی لباس کے بجائے ان جیسا لباس پہننا پسند کرتے ہیں تاکہ وہ اس کے بارے میں پوچھ سکیں اور ہم اپنی ثقافت کے بارے میں مزید وضاحت کر سکیں۔ ہم، پہلے سے طے شدہ طور پر، وہ کسی بھی چیز سے متاثر ہوتے ہیں اگر ہمارے لوگ ہمارے ملک میں ایسا نہیں کر رہے ہیں اور جب ہم واپس آتے ہیں تو اسے مثال بناتے ہیں۔ ہم وہاں نظم و ضبط کو اپنی کمزوری کے طور پر دیکھتے ہیں جسے ان کی برتری سمجھنے کے بجائے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ اصل موضوع نہیں تھا، اس طویل دیباچے کی وجہ یہ پہچاننا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کے رابطے میں کتنے کمزور ہیں۔ اور بنیادی اخلاقیات کی کمی کی ایک سب سے بڑی وجہ جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

ہم کسی کو بھی فون کال کرتے ہیں جس سے ہمارے ذہن میں بہت سی چیزیں ہوتی ہیں اور اپنی کہانی شروع کرتے ہیں یہ پوچھے بغیر کہ جس شخص کو فون کیا جا رہا ہے اس کے پاس اس طویل گفتگو کے لیے کافی وقت ہے یا نہیں۔ ایک سادہ سا سوال اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے اور سامعین کو ہم پر غور کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔ اور وہ ہے “کیا آپ کے پاس بات کرنے کے لیے کچھ منٹ ہیں؟”۔ دوسری چیز، اگر ہم کسی کو “آن لائن” دیکھتے ہیں تو ہم ایک پیغام پھینکتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر جواب دے گا اور اگر ہمیں فوری جواب نہیں ملتا ہے تو ہم ناراض ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی آپ کو بھی ایک کے بعد ایک میسج آتا ہے کہ “اگر آپ آن لائن تھے تو آپ نے جواب کیوں نہیں دیا؟”

ہم سچائی اور “ٹو دی پوائنٹ” گفتگو سے دور جا رہے ہیں۔ ہم کسی بھی بازار میں کسی جان پہچان والے کو روکتے ہیں، اسے سلام کرتے ہیں اور اس سے یہ پوچھے بغیر کہ اسے روکا جا سکتا ہے، ہم اپنی بات سے پہلے بہت لمبا دیباچہ شروع کر دیتے ہیں جس سے کوئی بھی تنگ آ جاتا ہے۔ ہمارے ذہن میں کہیں یہ ہو سکتا ہے کہ ایک لمبا دیباچہ اور اپنے نکات کو دہرانے سے ہماری آخری لائن مضبوط ہو جائے گی اور اسے یقین ہو جائے گا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں، ہم کچھ بیچ رہے ہیں، قرض مانگ رہے ہیں یا اسے یہ بتانے کا ارادہ ہے کہ مجھے نوکری کی ضرورت ہے۔ . مجھ پر یقین کریں اکثر اوقات آپ اس کے قریب ہوتے ہیں جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی مختصر بات کے لیے طویل گفتگو اسے تباہ کر دیتی ہے۔ آپ کا سننے والا لمحوں میں اپنا خیال متفقہ “ہاں” سے مکمل طور پر “نہیں” میں بدل سکتا ہے۔

ایک اور آفت کہانی کو منسلک کرنا ہے۔ لوگ عام طور پر سوچتے ہیں کہ متعلقہ کہانی بنانا اس مقصد کے لیے بہتر کام کرے گا۔ پرسکون ہو کر سوچیں، جب آپ کسی شخص سے کسی قسم کی تجویز یا مطالبے کے لیے رابطہ کر رہے ہیں، درحقیقت، اس وقت وہ آپ سے زیادہ برتر ہے۔ وہ آپ پر اچھی طرح غور و فکر کرتا ہے، وہ آپ کا چہرہ پڑھ رہا ہے، آپ کی گفتگو میں روانی اور ہچکچاہٹ کو دیکھ رہا ہے اور آپ کی آنکھوں کو بھی دیکھ رہا ہے۔ یہ سائنسی طور پر ثابت ہے کہ جب آپ کچھ بنا رہے ہوتے ہیں تو یقینی طور پر آپ کی آنکھوں اور زبان کا تمام یا تھوڑی دیر کے لیے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے، آپ غیر متعلقہ الفاظ اور جملے استعمال کرتے ہیں۔ آپ کی بات کرنے کا بہاؤ نارمل نہیں ہوگا۔

کسی نہ کسی طرح، ہم جھوٹ کو ملانا پسند کرتے ہیں۔ ہم اپنی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شروع کرتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ اپنی بات پر آتے ہیں کہ سننے والے کو منفی مشاہدہ کرنے دیں۔ اگر ہم اسے اپنے امتحانی پرچوں میں “ہیڈنگز” کی طرح کرتے ہیں، تو یہ سننے والوں کو ایک پر اعتماد احساس فراہم کرے گا۔ اگر ہم کسی موضوع سے شروع کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ قطعی نتیجہ نکلے بلکہ ایک موضوع ہو۔ جیسے “میں آپ سے رابطہ کرتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ نکتہ آپ کے لیے کارآمد ثابت ہوگا” یا “میں آپ سے اس لیے رابطہ کرتا ہوں کہ میں نے سوچا کہ اگر میں اپنی خواہش کو حاصل نہ کرسکا تو کم از کم میری اس گفتگو کو خفیہ رکھا جائے گا”۔ یا الفاظ جیسے “میں صرف “ہینکی پینکی” نہیں کرنا چاہتا اور میں اس میں لنگڑے بہانے شامل نہیں کرنا چاہتا”۔ میں عام طور پر اپنے ماتحتوں سے کہتا ہوں “اسے احمقانہ طور پر سادہ رکھیں”۔

ایک اور بات کی تصحیح کرنی چاہیے کہ ہم احمقانہ سوال کرتے ہیں اور سننے والا اس وقت تک جواب سے خالی رہتا ہے جب تک کہ وہ طنزیہ جواب کے ساتھ مزاح کی اچھی حس نہ رکھے۔ ذرا سوچیں، آپ کا دوست اچانک آپ کا سامنا کسی سپر مارکیٹ یا نمائش میں کرتا ہے اور آپ سے پوچھتا ہے “ارے، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” کیا آپ کو لگتا ہے کہ بات چیت شروع کرنے کے لیے یہ صحیح سوال ہے؟ کیا ہوگا اگر کوئی جواب دے “میں یہاں فٹ بال کھیلنے آیا ہوں”۔

سوالات جیسے “آپ نے میری کال کا جواب کیوں نہیں دیا؟”، کسی کے فون پر کال کریں اور پوچھیں “آپ کہاں ہیں؟” اور “میں اپنے گھر پر ہوں” جیسے جواب ملنے کے بعد مزید گفتگو کا اس مقام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا جو پوچھا گیا تھا۔ اور فون کال پر “تم کیا کر رہے ہو؟”۔ کیا اصل چیز فون پر کال کرنے کے بعد کسی سے پوچھنا ہے؟ یہ تمام سوالات اس وقت جائز ہو سکتے ہیں جب ان کا تعلق مزید گفتگو سے ہو۔

ہم حقیقت جانے بغیر فیصلے دیتے ہیں اور یہ ایک اور زہر ہے جو ہماری شخصیت کو ناگوار بنا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر “آپ نے میری کال کا جواب نہیں دیا کیونکہ آپ نے سوچا تھا کہ میں آپ کا وقت ضائع کروں گا” اور “میں نے آپ کو بازار میں بلایا تھا اور آپ نے جان بوجھ کر مجھے نظر انداز کیا” اور اگر کوئی کسی قسم کے تناؤ میں ہے جس سے اس کا چہرہ بے حس ہو جاتا ہے۔ دو ٹوک تبصرہ کرتا ہے “وہ برا رویہ دکھا رہا ہے” بغیر پوچھے “کیا سب ٹھیک ہے؟” ہم “مغرور” “حسد” “اوور سمارٹ” “مبالغہ آمیز” “جھوٹا” “پینکو” اور بہت سے دوسرے لیبل لگاتے ہیں۔ ہر رویے کے پیچھے کہانی ضرور ہوتی ہے، ہر بار نہیں کئی بار۔ اگر کوئی زیادہ بات کرنے والا نہیں ہے، تو وہ صرف آپ کے ساتھ ایسا ہی ہو سکتا ہے اور اگر نہیں، تو اسے زیادہ بات کرنے کے ماضی میں کچھ برے تجربات ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی چہرے سے غصے میں نظر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کا صرف وہی ساکن اظہار ہو اور وہ اپنے اچھے لطیفوں کی وجہ سے اپنے دوستوں کے حلقوں میں مداح ہو۔

بحث میں رکاوٹ، ہم آرام سے کسی کو بھی روک دیتے ہیں اور اسے اپنی بات مکمل کرنے کے بغیر ہم اپنا نقطہ نظر یا کہانی بیچ میں ڈال دیتے ہیں۔ ہم اچھے سننے والے نہیں ہیں۔ ہم صرف بات کرنا پسند کرتے ہیں چاہے اس کا تعلق ہو یا نہ ہو، موضوع سے غیر مرتب ہو یا اپنے نقطہ نظر کو مضبوط کرنے کے لیے کوئی جعلی کہانی ہو۔ ہم اسے جیتنے کے لیے بحث کرتے ہیں نہ کہ کچھ سیکھنے کے لیے یا خود درستگی کے لیے۔ ہم مکمل نقطہ یا سوال سننے سے پہلے بندوق کی گولی کی طرح دلیل دیتے ہیں۔ ہمارے پاس مہذب الفاظ کی بھی کمی ہے اس لیے کسی نہ کسی طرح اسے گالیوں سے بدل دیتے ہیں۔ یہ “میں صحیح ہوں” کا رویہ بعض اوقات ان مواقع کو نقصان پہنچاتا ہے جو بحث کے دوران پیدا ہونے والے ہیں۔

سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ جس بات، شخص یا خیال کو ہم پسند کرتے ہیں اسے درست ثابت کرنے کے لیے ہم مخالف کو غلط ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں حتیٰ کہ ان کی توہین بھی شروع کر دیتے ہیں۔ آج ہمارے اندر سب سے زیادہ لعنت اس قسم کے ملے جلے اور مبہم رویے کا نتیجہ ہے جو خود کو مایوسی، احساس کمتری اور غصے میں مبتلا کر دیتا ہے برداشت کی کمی ہے۔ ہم کم تعریف کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ہمارے لیے کھلے عام تعریف کرنا بہت بھاری ہوتا ہے جب تک کہ ہم ذاتی طور پر اس شخص، خیال یا بات کو پسند نہ کریں۔ بولنے سے پہلے سوچنے میں ایک ملی سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔

اب کیا کیا جائے؟ سننے کی مشق کریں، مخالف کے نقطہ نظر کو برداشت کریں جب تک کہ یہ ہماری مذہبی شخصیات یا اقدار کی توہین یا زیادتی نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی بھی زیادتی یا مذہب کی توہین کی صورت میں صرف سزا دینے والے بنیں اور انہیں مارنا شروع کر دیں۔ اس سے نمٹنے کے بہت سے جائز اور جائز طریقے ہیں۔ اگر آپ مباحثوں یا مباحثوں میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں تو آپ کو بہت کچھ پڑھنا چاہیے۔ آپ کو اس موضوع کے بارے میں کافی معلومات اور معلومات ہیں جس پر بات ہو رہی ہے۔ بات چیت کی اخلاقیات پر عمل کریں، اپنے نکات کو آسان اور کمپریس کرنے کی کوشش کریں، جب تک نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ضروری نہ ہو اسے زیادہ کثرت سے نہ دہرائیں۔

اور ہاں، بعض اوقات خاموشی جواب سے زیادہ موثر ہوتی ہے اور یہ بہترین جواب ہوسکتا ہے۔

آخر میں، میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ اس مضمون میں بیان کی گئی خامیاں اور غلطیاں ہر کسی کے اندر یا عمومی طور پر نہیں ہیں۔ لیکن میں نے تجربہ کیا ہے کہ مجھ سمیت اکثریت ان میں سے کچھ یا ان تمام خامیوں میں ملوث ہے اور اس سے پہلے کہ یہ ہماری فطرت کا حصہ بن جائے، ہمیں اس کی اصلاح کے لیے کام کرنا چاہیے یہ ہماری شخصیت کو مزید موثر اور متاثر کن بنائے گا۔

ہماری اپنی ثقافتی اقدار، سماجی ڈھانچہ اور اس سے بڑھ کر واحد دین ہے جو انسانیت سے متعلق ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے۔ اپنے کامل سماجی نظام کے بجائے نامکمل یا خامیوں سے بھری ثقافتوں سے متاثر ہونا درحقیقت ایک ناانصافی ہے۔

۔

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے
اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا
سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے
دے رہے ہیں تمہیں تو لوگ رفاقت کا فریب
ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو
دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے
تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو
بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے
ہم سفر ڈھونڈو نہ رہبر کا سہارا چاہو
ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے
تم ہو اک زندۂ جاوید روایت کے چراغ
تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے
صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں
تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاؤ گے
سیاست اور چنگیزی

ہم ہائبرڈ جنگ کے دور میں رہ رہے ہیں۔ آج سیاست دان عام آدمی کو اپنی کامیابیوں کے بارے میں قائل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ آس پاس کے سب لوگوں میں واحد اچھا ہے۔ پاکستان، وہ سرزمین جسے برصغیر کے مسلمانوں نے صرف ایک وجہ سے قائم کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ کیوں؟ طرز زندگی، ثقافت، عقیدے اور مذہبی طریقوں میں فرق کی وجہ سے۔ تو نئے وطن کی پالیسی کیا ہونی چاہیے؟ یقیناً، جہاں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ اور آزادی کے ساتھ مذہب پر عمل کرنے کے لیے یہ بنیادی بات ہے کہ ریاست کا نظام مکمل طور پر اللہ کے حکم پر ہو۔ ٹھیک ہے؟

پچھلے بیس سالوں سے میں نے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو اس ملک میں مذکورہ نظام کو نافذ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ ہم نے ایک ایسا آئین بنایا ہے جس کی شروعات “حکمرانی اللہ کی ہے” سے ہوتی ہے اور نظام کو نافذ کرنے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے ریاست کا چیف ایگزیکیٹو مقرر کردہ شخص اللہ کا نائب ہوتا ہے۔ کیا یہ مضحکہ خیز نہیں ہے کہ اگر کسی سے یہ پوچھا جائے کہ اسلامی نظام دراصل کیا ہے تو ان تمام اشرافیہ میں سے کوئی بھی صحیح جواب نہیں دے سکے گا جو کہ اقتدار میں تھے اور ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ وہ اقتدار میں بھی کیوں اور کیسے ہیں اگر وہ اس بنیادی چیز کے بارے میں نہیں جانتے جو لاکھوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی ریاست میں نافذ ہونی چاہیے؟ باقی تمام نکات کافی مبہم ہیں اور کیا انہیں ابھی تک عدالتوں سے وضاحت کی ضرورت ہے؟ جیسا کہ ہم آج کے سیاسی منظر نامے میں دیکھ چکے ہیں۔

سب سے پہلے، کیا ہمیں قرآن کے بعد آئین کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں، تو کیا یہ آئین ہمارے مذہب کی ہدایات کا عکاس نہیں ہونا چاہیے؟ اور اگر اب بھی ایسا نہیں ہے تو کون ان شقوں کی اصلاح کرے گا جو مذہبی ہدایات سے متصادم ہیں۔ ہمارے پاس دسیوں سیاسی جماعتیں ہیں جن کے منشور اور نظریات مختلف ہیں۔ ووٹروں کی اکثریت منشور اور نظریے کی پرواہ نہیں کرتی۔ ان کے پاس صرف کچھ پیری مریدی، تجارتی فوائد، جاگیردار اور مزدور، رشتہ دار، ذاتی کشش ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کیلئے کافی وجہ ہے۔ اور منشور، نظریہ اور کردار کو سننےاور سمجھنے والوں کا تناسب بھی بہت کم ہے لیکن یہ کم تناسب تبدیلی نہیں لا سکتا۔ کیا انتخابی عمل قوم یا معاشرے کی ترقی کے لیے ہے یا صرف اکثریت کی مرضی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے؟ کیا ایسا نہیں لگتا؟

ایک بار جب ہم جمہوری عمل کو آگے بڑھاتے ہیں، تو ہم ووٹ کا حق دیتے ہیں اور پھر ایگزیکٹو کو منتخب کرنے کے لیے ووٹوں کی گنتی کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ جس ملک میں خواندگی کی شرح تیس فیصد سے کم ہو اور لوگ زیادہ باشعور نہ ہوں وہ اس بارے میں بہتر رائے کیسے دے سکتے ہیں کہ کس کو ایگزیکٹو یا قانون سازی کا اختیار دینا ہے؟ تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ کرپٹ لوگوں کی اکثریت ایک کرپٹ ایگزیکٹو کا انتخاب کر سکتی ہے جو باقی لوگوں کے لیے جہنم بن جائے گی۔ جمہوریت کو انسانی زندگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسلام ہمیں شوری کا تصور دیتا ہے۔ یہ قابل لوگوں کے ایک سمجھدار، منتخب کردہ گروپ کے ساتھ کام کرتا ہے جو غیر متنازعہ ہیں، اپنے متعلقہ شعبوں میں ماہر ہیں اور باہمی طور پر ایک ایگزیکٹو کو منتخب کرنے کے لیے ایک بہترین مستقبل کا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

بدقسمتی سے، اس پر عمل کرنے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن اس کی اصل روح کے ساتھ نہیں۔ یہ عام طور پر ان لوگوں کو پیچھے دھکیل دیتا ہے جو بنیاد پرست ہو سکتے ہیں، مضبوط موقف اختیار کر سکتے ہیں چاہے وہ کسی کے بھی خلاف ہو لیکن حق کے ساتھ۔ اور پھرسیاسی فائدے بھی اس کے ساتھ جڑے ہیں۔ کسی نہ کسی طرح یہ مثبت اور منفی ذہنیت کا امتزاج بن جاتاہے جو اسے قوم کی تعمیر اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے نااہل بنا دیتا ہے۔ مزید برآں، طاقت کا لالچ اس میں مزید خرابی پیدا کر دیتا ہے اور غداری کی طرف لے جاتا ہے جس سے دشمنوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس مادیت پرستی کے دور میں مخلص، محب وطن اور ایسے لوگوں کو جمع کرنا بہت مشکل ہے جو ایگزیکٹوز کے انتخاب کی اتھارٹی بنیں۔

ممکنہ آپشن واضح ہے. ایک خود مختار مشاورتی بورڈ جو واضح طور پر منتخب اور اہل افراد کے ذریعے چنا گیا ہو۔ یہ ووٹرز چھوٹے گروپوں کی قیادت سے ہونے چاہئیں جن کا اپنے حلقوں میں ایک منصفانہ پس منظر اور پہچان ہے۔ اس کونسل کی کارروائیوں اور ذاتی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک مانیٹرنگ باڈی کی بھی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ایک مضبوط عدلیہ جسے کسی ایک فرد کے ذریعے نہیں چلایا جانا چاہیے۔ اور انتخاب کے طریقہ کار کو ایڈوائزری کونسل کی طرح ہی نافذ کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے موجودہ نظام میں آمریت جیسی خامیاں ہیں۔ طاقت کی غیر متوازن تقسیم، مینڈیٹ کی حدود سے تجاوز، ذاتی انتقام، اقربا پروری، ریاستی اداروں کو ذاتی غلامی کے طور پر استعمال کرنا اور ہر وسائل کو بغیر چیک اینڈ بیلنس کے استعمال کرنے کا اختیار۔ جب طاقت کا صرف ایک مرکز ہو اور اسے بغیر کسی جواز کے کسی بھی چیز کو قبول کرنے اور انکار کرنے کا زیادہ اختیار ہو تو اس سے پورے نظام کو نقصان پہنچے گا اور کسی کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ تمام سیاستدان اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں قسمیں کھاتے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی کے اندر یا باہر کوئی اسلام نہیں ہے۔ صرف ایک چیز ہے جس کے لئے وہ برسوں سے لڑتے رہے ہیں وہ ہے حکمرانی۔

اس مضمون کو “عمر بن عبدالعزیز کے دور” کے ایک مختصر سبق پر بند کریں گے جس میں لوگ چاہتے تھے کہ وہ انہیں حکمران بنائیں لیکن انہوں نے کئی بار انکار کیا اور آخر کار قرعہ اندازی پر فیصلہ ہوا۔ اور پھر بھی، جس کیلئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اس کا نام قرعہ میں حکمرانی کے لیے نہ چنا جائے۔ کیوں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ “اگر فرات کے کنارے پر بکری کا بچہ بھی پیاس سے مر جائے تو اللہ کے سامنے وہ جوابدہ ہوں گے۔”

ہم بہتری اور ترقی کی طرف تب جا سکیں گے جب :

حکومت کو عیاشی نہیں کٹھن بوجھ سمجھا جائے گا

جب نمونہ مغرب نہیں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز حکومت ہوگا

تقوی ابوبکر رضی اللہ عنہ والا، عدل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ والا، حیا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ والی اور عدالت و شجاعت علی المرتضی رضی اللہ عنہ والی ہوگی۔ اور ان سب خصوصیات کیلئے رعایا یعنی ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والے اوصاف پیدا کرنے پڑیں گے۔

بقول اقبال

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار

لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

معلومات کی کثرت اور علم کا فقدان Sea of Knowledge and Lack of Wisdom
  
رمضان کے مہینے میں مصروفیات کے کم ہونے  وجہ سے مطالعاتی آوارہ گردی کرتا رہا. صرف طائرانہ نظر دوڑانے پر چکّر سا آ گیا. خدا کی پناہ پس منظر کے بغیر لوگ اپنے اپنے مطالعے کو حرف آخر سمجھ کر مواد کا پہاڑ کھڑا کر  رہے ہیں اور ٹی وی کے سامنے دن کا بیشتر حصّہ گزارنے والے یا مختلف قسم کے اخبارات چاٹنے والے بیچارے بینگن کی طرح لڑھکتے رہتے ہیں.
میں نے محسوس کیا (ہو سکتا ہے میں غلط ہوں) کے دنیا بھر میں لوگ ایک بنیادی چارٹر کو سامنے رکھتے ہیں اور پھر انھیں جو بھی معلومات دی جاے اسے اس پلڑے میں رکھ کر سوالات کرتے ہیں ، اب یہاں سوالات کے دو درجے ہو جاتے ہیں. سوالات براۓ بحث اور سوالات براۓ اصلاح. یہاں عمومی طور پر سوالات براے تنقید اور بحث کا رجحان زیادہ ہے کہ کسی طرح سامنے والے کی دلیل کو غلط اور اپنے موقف کو صحیح ثابت کر دیں.
بطور مسلمان ہمارا چارٹر کامل اور صحیح ترین ہے. شک کا ذرّہ بھی نہیں اور وہ  ہے قران مجید . تو اگر کسی کی بات کو تولنے کی نوبت آتی ہے تو قران کا پلڑا کامل ترین ہے. اب یہاں بات کو تھوڑا سا موضوع سے باہر لاتے ہیں. بطور مسلمان سب کا انتہائی مقصد کیا ہے؟ بیشک جنّت کو پانا اور جہنّم سے خلاصی. اور اس مقصد کے لیے الله نے اپنے محبوب سرور کائنات محمّد صل الله علیہ وسلّم کے ذریعے ہمیں بتا دیا کے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا.
اب اس بنیادی چارٹر کو خود پر لاگو کر کے ہر مسلمان آسانی سے فیصلہ کر سکتا ہے کے میری بنیاد ٹھیک ہے یا نہیں؟ مثلا جھوٹ دھوکہ تہمت فریب کینہ بغض حسد یہ عام  بیماریاں ہیں جو مجھ سمیت اکثریت کے اندر ہیں. دوسرا حرام کا نوالہ مثلا سود شراب حرام کردہ چیزیں زنا  جو کے واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ آنکھ کان زبان اور ہاتھ سب کا ہوتا ہے اس سے کون کون محفوظ ہے اور اس سے آگے یہ پڑھنے والے خود بھی جانتے ہیں. تو اگر میری بنیاد میں یہ بیماریاں ہیں تو میں بحث  کے اگلے صفحے پر تو آ ہی نہیں سکتا.

اب اگر مسلمان جنّت میں جانا چاہتا ہے اور وہ  کہتا پھر رہا ہے کہ میں مسلمان ہوں، دعا کرتا ہوں تو دعاؤں کے قبول نہ ہونے اور الله کی طرف سے جواب نہ آنے کی وجوہات تو واضح موجود ہیں. کینہ رکھنے والا، حرام کھانے والا ماں باپ کا نافرمان اور اس کے علاوہ دیگر. کیا ہم پہلی سیڑھی کے مسلمان بھی ہیں؟

آگے اس پر ستم یہ کے ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کرنا جو کے جھوٹا ہونے کی سب سے بری نشانی بتائی گئی. تو ہم اپنے اطراف میں دیکھیں کیا ہر جگا سے ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے آگے نہیں بیان ہو رہی؟  ٹی وی کی شکل میں، موبائل فون کی شکل میں، فیس بک کی شکل میں اور دیگر. جس طرح الله نے ہمارے لیے انعام رکھا ہے کے ہماری کہی ہوئی بات سے اگر کوئی سیدھے راستے پر آجاتا ہے تو اس کا اجر ہمیں بھی ملتا ہے بلکل اسی طرح اگر ہماری بغیر تحقیق کے آگے بڑھائی ہی بات سے اگر کوئی ایک بھی بھٹک جاتا ہے تو ہم خود اندازہ کریں کے کیا ہوگا. اور پھر بغیر تحقیق کے آگے بڑھائی ہوئی بات تہمت، الزام، غیبت ان سب چیزوں کی گندگی بھی اپنے اندر لیے ہے ہوتی ہے تو ہم اپنا کیا حال کر رہے ہیں؟

میرا ایک بہت اچھا دوست جو کہ فوج میں ہے، اور مجھ سے زیادہ محب وطن بھی ہے، جب اسکے منہ سے ایک مایوسی والا جملہ سنا   تو مجھے احساس ہوا کے حق اور سچ بیان کرنے کے ٹھیکے داروں نے اپنی نسلوں تک کو داؤ پر لگا دیا ہے. اور پیسہ ہی خدا بنا لیا گیا ہے. کیا بے شمار پیسے سے قبر کا عذاب ٹالا اور جنّت خریدی جا سکتی ہے؟ کتابوں اور آرٹیکلز کے ڈھیر پڑھنے کے بعد بھی ہم فکری طور پر لولے لنگڑے ہی ہیں؟

رائے زنی اور وہ بھی نامکمّل معلومات اور سطحی مطالعے کے ساتھ خطرناک اور نقصان دہ ہو جاتی ہے اور ویسے بھی ہم تو اب اتنے یتیم ہیں کے اپنی ہی معلومات کی تصدیق کے ذرایع محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ہم اپنی کی ہی تحقیق پر تنقید اور سوالات بھی برداشت نہیں کرتے. اگر آج اس چیز کی بنیاد ڈالتے ہیں تو کل اپنی نسلوں کے آگے سرخرو ہو سکیں گے ورنہ وہ خدانخواستہ  مزید بھٹکے گی اور ہم ہونق بن کر ان کو ڈوبتا دیکھتے رہیں گے…   .
What is Shia and Sunni? – License to Kill
I have been reading different articles and columns regarding Rawalpindi from last couple of days. Every columnist and writer is trying to define the different base of Sunni/Shia division. One writer is saying that it is the invention of ANGREZ (British Govt.), another is saying it is created by Indian Businessmen (HINDU SETH) at the time of partition and somebody is saying this fire has been burnt by America.

What I have studied is totally different in the books of history AND/OR somebody else have something else to describe. But one thing is common… There is a difference.. Now the questions is.. Is this difference gives license somebody to Kill his opponent? If YES, from where and how?

For a moment, we suppose that some Sunni abused Shia or those whom they followed so would those Sunni should be killed, burned or slaughtered? vice versa, if some Shia abused so should they been killed?

If YES then who allowed both sides to do so? Those people who they follows? Did they ordered like if somebody abuse me my followers should kill them brutally and put everything on fire? even without inquiring who was guilty, what he stated and how?

So is it that easy to kill somebody on road by just shouting “He abused XYZ”. and nowadays people strictly follow the “WAJIB” of “WAJIB UL QATL” instead of following thousand of  “WAJIBs” in Shariat. Who cares about the Salaah, Sunnah, Protection of Eyes and Tongue, Protection of Evil Desires, Music, Male/Female combined gathering that leads to Sin and many more…

We didn’t even studied the right Islam, we even didn’t know more than Namaz and Roza (Salaah and Fasting) I can bet that not even 5 from the gathering of 500 shouters (Type of people who only shout and destroy public property) on the road even know 10 Verses of Qur’aan with meaning and explanation or 10 Hadith with same. We don’t even know what our Beloved Prophet SAAW have said about Liars.

Well, conclusion, Muslims have more priorities to do and spread than killing somebody in the name ABUSE and BLASPHEMY as if we do not KILL a blasphemist, there is a chance of TAUBA (His submission to Allah and reversal from Sins towards Good) but if we return ABUSE against ABUSE or Hatred against Hatred, we can’t achieve our goals that has been defined by Beloved Prophet SAAW and all his Respected and honorable Companions RAA. May Allah guide us all to the Path of Righteous and his beloved ones.

اقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
اقبال ! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
 
دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم کہ جلاؤں
شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں؟
 
ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہراک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
 
شاہیں جہاں تھا آج وہ کرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملّا سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے
 
مر مر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہراک شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
 
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و رُوباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
 
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندۂ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو
اک بار تھا ہم چھُٹ گئے اس بارِ گراں سے
 
جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے
اُگتے ہیں تہِ سایۂ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تنِ خستہ پہ اب دانت ہیں سب کے
 
محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانئ جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پرجو خودی کا
مر، مر کے جئے ہے کبھی  جی ، جی کے مرے ہے
 
دیکھو توذرا محلوں کے پردوں کواٹھا کر
شمشیر و سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سو گئی طاؤس پہ آکر
 
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا توبڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کُھول کے دیکھا نہیں قرآن
 
کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈوھنڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
 
اقبالؒ تیرا دیس کہاں ہےکہاں جاؤں؟
These characters won’t come again.
Write me at basityousuf@hotmail.com for English Translation

ایسے لوگ  اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے



دو نوجوان  سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص  کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں یا عمر ؓ یہ ہے وہ شخص!

سیدنا عمر ؓ  ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟

یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل  کیا ہے۔

کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟ سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔

سیدنا عمر ؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟

وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین،  مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔

کس طرح قتل کیا ہے؟ سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔

یا عمرؓ، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے  ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔

پھر تو قصاص دینا  پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔  سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔

 

نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں، نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کسقدر  شریف خاندان  سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی  معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر ؓ کو مطلب ہی کیا ہے!! کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر ؓ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے  پر عمرؓ کو  روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمرؓ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ  قاتل کی حیثیت سے آ  کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔

 

وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس  جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔

سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں: کون تیری ضمانتدے گا کہ تو صحراء  میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟

مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو  ایسا نہیں ہے جو اسکا  نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمےیا  گھر  وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔

کون ضمانت دے اسکی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا  زمین کے ٹکڑے  یا کسی اونٹ کے سودے  کی ضمانت کا معاملہ ہے؟  ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔

اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ سے اعتراض  کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔

محفل میں موجود  صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر ؓ  بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت  نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟  یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا  جائے؟  واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!

خود سیدنا   عمرؓ  سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں  ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کر دو اس شخص کو۔

نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔

عمرؓ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟

ابو ذر غفاری ؓ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!

سیدنا عمرؓ کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔

چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر ؓ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔

عمرؓ: جانتے ہو اسے؟

ابوذرؓ: نہیں جانتا اسے۔

عمرؓ: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟

ابوذرؓ: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔

عمرؓ: ابوذرؓ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔

امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔

سیدنا عمرؓ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر  واپس آنے کیلئے۔

 

اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر ؓ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت  شہر میں  (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔

ابو ذرؓ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمرؓ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمرؓ سوال کرتے ہیں۔

مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذرؓ مختصر جواب دیتے ہیں۔

ابوذرؓ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا  ہونے جا رہا ہے؟

یہ سچ ہے کہ ابوذرؓ سیدنا عمرؓ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ سے ان کے جسم کا ٹکڑا  مانگیں تو عمرؓ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذرؓ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں  اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمرؓ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

عمرؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!

امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو  پرندوں کے چوزوں کی طرح  صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔

سیدنا عمرؓ نے ابوذر کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذرؓ، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟

ابوذرؓ نے کہا، اے عمرؓ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔

سید عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟

نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔

 

سیدناؓ عمر اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔

اے ابو ذرؓ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔

اور اے شخص،  اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔

اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔

A Positive answer to Blasphemy. Make your anger a strength, not weakness.

As a Pakistani we all discuss many things on blogs, social sites and Web 2.0 activities. It is noticed by me many times that we usually put our personal opinions on those places where it is not required. Like, the responsibility of a journalist is to publish the event or happening as it is, but most of them adds their personal opinions in that.
I would like to say to all active participants of any site that most of the times we (including me) react much hard by our words on the comments or activity done by others. And by doing this we doesn’t left comments only but an impression of the FLAG we are representing. I would like to add an example that nowadays it is seen regularly that somebody do blasphemy on our Beloved Holy Prophet SAAW and everybody starts reacting harshly and do many things that should not be done. i.e.
I got an email from one of my mate in which she explained that How an individual or a group do blasphemy on our religion and please join that group to react and answer them and BLAH BLAH.. points should be noticed that :
1. If I join that group what will happen to that Individual?
2. Will joining FACEBOOK or any other group file case on that individual?
3. Would that individual or group or any other like this stop doing these activities?
4. What image we are leaving by abusing on that group and using slang to that individual / group for other neutrals, atheists or non-muslims?
5. Is it a sin to abuse? using bad language for a person or group we even didn’t seen?
and many others..
I know at that point many of readers are thinking that I am some kinda propagator of secularism, or modern Islam. But I would like to clear that I am a person believe that there is no compulsion on religion. Nobody is beloved than NABI-E-PAK SAAW for me, even my family, kids and whole universe. I feel fire inside myself if I listen that somebody insulted Him in any mean.
My point is that we usually write lot of logical, intellectual and positive words in our blogs and comments. Can’t we write some kinda strong, logical and positive comments to address those visitors who come on that page to ENJOY the situation? We should make our anger an strength, not weakness. Many people around the world came on that particular like to enjoy the situation. We already get the huge audience to deliver the message of true islam over there. Isn’t it a chance to let the people understand What is Islam? What are the teachings of Islam?
I am damn sure that if we practice to spread and propagate Islam and Islamic Teachings on these sites/pages as comment. It will hurt those HUMAN FACED DOGS deeply. They will realize that if they do these activities for their cheap fame, we muslims use their this act as a open play ground to spread Islam. Otherwise they’ll play with us like this for their enjoyment and advertising benefits and we visit those pages/sites as a victim for advertising people who get money from advertisers for the number of hits.
Do it now. Visit the Page and place Islamic Verses, Teachings, Positive quotes as much as you can. Inshallah you’ll see the result soon. Coz its a promise of Allah that if we are doing good deed equals to beetle of date with sincerity, Allah will reward us equal to Mountain OHAD. Inshallah.
Please try to understand my point and correct me if I am wrong at any point.
This made my eyes Wet !

Every Friday afternoon, after the Jumma prayers, the  Imam and his eleven year old son would go out into their town and hand out “PATH TO PARADISE” and other  Islamic literature.

This particular and fortunate Friday afternoon, as the time came for the Imam and his son to go to the streets with  their booklets, it was very cold outside, as well as pouring rain.

The boy bundled up in his warmest and driest clothes and said, ‘OK, dad, I’m ready!’

His dad asked, ‘Ready for what’ ‘Dad, it’s time we go out and distribute these Islamic books.’

Dad responds, ‘Son, it’s very cold outside and it’s pouring rain.’

The boy gives his dad a surprised look, asking, ‘But Dad, aren’t people still going to hell, even though it’s raining?’

Dad answers, ‘Son, I am not going out in this weather.’

Despondently, the boy asks, ‘Dad, can I go Please’

His father hesitated for a moment then said, ‘Son, you can go. Here are the booklets. Be careful son.’

‘Thanks, Dad!’

And with that, he was off and out into the rain. This eleven year old boy walked the streets of the town going  door to door and handing everybody he met in the street a pamphlet or a booklet.

After two hours of walking in the rain, he was soaking, bone- chilled wet and down to his VERY LAST BOOKLET. He  stopped on a corner and looked for someone to hand a booklet to, but the streets were totally deserted.

Then he turned toward the first home he saw and started up the sidewalk to the front door and rang the door bell. He rang  the bell, but nobody answered..

He rang it again and again, but still no one answered. He waited but still no answer.

Finally, he turned to leave, but something stopped him.

 Again, he turned to the door and rang the bell and knocked loudly on the door with his fist. He waited, something holding him  there on the front porch!

He rang again and this time the door slowly opened.

Standing in the doorway was a very sad-looking elderly lady. She softly asked, ‘What can I do for you, son?’ With radiant eyes and a  smile that lit up her world, this little boy said, ‘Ma’am, I’m sorry if I disturbed you, but I just  want to tell you that ALLAH REALLY LOVES AND CARES FOR YOU and I came to give you my very last booklet  which will tell you all about God, the  real purpose of creation, and how to achieve His pleasure.’

With that, he handed her his last booklet and turned to leave.

She called to him as he departed. ‘Thank you, son! And God Bless You!’

Next week on Friday afternoon after Jumma prayers,  the Imam was giving some lectures. As he concludes the lectures, he asked, ‘Does anybody have questions or want to say  anything?’

Slowly, in the back row among the ladies, an elderly lady’s voice was heard over the speaker. 

 ‘No one in this gathering knows me. I’ve never been  here before.  You see, before last Friday I was not a Muslim, and thought I could be. My husband died few years ago, leaving me totally alone in this world.. Last Friday, being a particularly cold and rainy day, i was contemplating suicide as i had no hope left.

So I took a rope and a chair and ascended the stairway into the attic of my home.. I fastened the rope securely to a  rafter in the roof then stood on the chair and fastened the other end of the rope around my neck. Standing on that chair, so lonely and  broken-hearted I was about to leap off, when suddenly the loud ringing of my doorbell downstairs startled me. I thought, I’ll wait a minute, and whoever it is will go away.

I waited and waited, but the ringing doorbell seemed to get louder and more insistent, and then the person ringing also started knocking loudly….

I thought to myself again, ‘Who on earth could this be? Nobody ever rings my bell or comes to see me.’ I loosened the rope from my neck  and started for the front door, all the while the bell rang louder and louder.

When I opened the door and looked I could hardly believe my eyes, for there on my front porch was the most radiant and  angelic little boy I had ever seen in my life. His SMILE, oh, I could never describe it to you! The words that came from his mouth caused my heart that had long been dead TO LEAP TO LIFE as he exclaimed with a cherub-like voice, ‘Ma’am, I just came to tell you that ALLAH REALLY LOVES AND CARES FOR YOU!’


 Then he gave me this booklet, Path To Paradise that I now hold in my hand.

As the little angel disappeared back out into the cold and rain, I closed my door and read slowly every word of this book. Then I  went up to my attic to get my rope and chair. I wouldn’t be needing them any more.

You see? I am now a Happy Vicegerent of the One True God. Since the address of your congregation was stamped on the back of this booklet,  I have come here to personally say THANK YOU to God’s little angel who came just in the nick of time and by so doing, spared my soul from an eternity in hell.’

There was not a dry eye in the mosque. The shouts of TAKBIR…ALLAH AKBAR.. rented the air.

Imam-Dad descended from the pulpit to the front row where the little angel was seated….

He took his son in his arms and sobbed uncontrollably.

Probably no jama’at has had a more glorious moment, and probably this universe has never seen a father that was more  filled with love and honor for his son… Except for One. This very one…

Spread His Word, help Him and you’ll see His hand in everything you do…


Q 5:3: This day I’ve perfected your religion for you, and completed my favor on you, and chose Islam for you as religion….

Fog of my thoughts - | - میرے خیالات کی دُھند

Your comments are valuable. Subscribe by email or Message me directly from blog - | -

آپ کی آراء قیمتی ہیں۔ ای میل سے سبسکرائب کریں یا بلاگ سے براہ راست میسج کریں -.